خطبات محمود (جلد 26) — Page 208
$1945 208 خطبات محمود نام کے ساتھ واقف اور مجاہد لکھنے کے لئے تیار ہے مگر کام کرنے کے وقت ان کی جان نکلتی ہے۔مگر بہر حال یہ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے کچھ نہ کچھ تو قربانی کی ہے ان میں بعض ایسے ہیں جو دنیوی طور پر اس سے زیادہ کما سکتے تھے جتنا ان کو یہاں گزارہ ملتا ہے۔لیکن دوسرے نوجوانوں کی حالت تو اور بھی بد تر ہے۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے مگر خدام نے کوئی ایسا رستہ نہیں نکالا جس کے ساتھ نوجوانوں کو با قاعدہ اور متواتر کام کرنے کی عادت ہو اور وہ یہ نہ کہیں کہ وقت زیادہ ہو گیا تھا اس لئے کام رہ گیا۔بلکہ ان کے دل میں یہ احساس ہو کہ جو کام ہمارے سپر د کیا جائے ہم نے اسے ضرور کرنا ہے اور اسے ختم کر کے چھوڑنا ہے چاہے ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے یا میز پر بیٹھے بیٹھے یا فرش پر بیٹھے بیٹھے یا چلتے چلتے یا کام کرتے کرتے میری جان ہی کیوں نہ نکل جائے۔جب تک یہ مادہ اور یہ حق پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے اور کبھی ہم تسلی اور اطمینان کے ساتھ یہ امانت اگلی نسل کے سپر د نہیں کر سکتے۔احمدیت کی محبت، اخلاص اور تربیت جھگڑوں سے روکتی ہے۔مگر لوگ معمولی معمولی بات پر جھگڑتے ہیں، عہدوں پر جھگڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ سارا نقص اس وجہ سے ہے کہ احمدیت کی محبت دل میں نہیں۔اگر احمدیت کی محبت ہوتی تو کچھ بھی ہو جاتا وہ اس کی پروا نہ کرتے۔یہ لوگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں، عدالتوں میں جاتے ہیں۔کہیں ان کو چپڑاسی تنگ کرتے ہیں، کہیں ان کو کمپاؤنڈر (Compounder) دق کرتے ہیں۔یہ ان ساری ذلتوں کو برداشت کرتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے عزیز کی جان یا ہماری عزت خطرے میں ہے۔اگر اسلام کی جان اور اسلام کی عزت کی قدر ان کے دل میں ہوتی تو یہ آپس میں ذرا ذرا سی بات پر کیوں جھگڑتے۔تو فرق یہی ہے کہ اپنے عزیز کی جان یا اپنی عزت ان کو زیادہ پیاری ہے اس لئے کچہریوں یا ہسپتالوں میں مجسٹریٹوں یا ڈاکٹروں کی جھڑ کیاں کھاتے ہیں اور ان کو برداشت کرتے ہیں۔ان سے گالیاں سنتے ہیں اور ہنستے ہوئے کہتے چلے جاتے ہیں کہ حضور ! ہمارے مائی باپ ہیں جو چاہیں کہہ لیں۔مگر خدا کے سلسلہ اور خدا کے نظام میں معمولی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔وہاں ہسپتالوں میں دائیاں اور