خطبات محمود (جلد 26) — Page 199
$1945 199 خطبات محمود بھی اور مائیں بھی سخت غمزدہ ہوتی ہیں۔کبھی طبیبوں سے علاج کراتے ہیں، کبھی دائیوں سے مشورے لیتے ہیں، کبھی دعائیں کرتے اور دعائیں کراتے ہیں کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں، اولاد ہو جائے۔حالانکہ اولاد کیا فائدہ پہنچاتی ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ہزاروں ہزار انسان دنیا میں ایسے ہیں پچاس ساٹھ یا ستر فیصدی نہیں بلکہ نوے فیصدی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اگر تو نوے فیصدی لوگ ایسے ہوتے کہ ان کی اولاد انہیں فائدہ پہنچاتی اور اُن کی خبر گیری کرتی تو ہم سمجھتے کہ اولاد کی خواہش انسان کے اندر اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اولاد سے فائدہ اٹھائے مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ادھر اولاد جوان ہوتی ہے اور اُدھر وہ اپنے بیوی بچوں کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔سینکڑوں بوڑھے میرے ذاتی علم میں ایسے ہیں جو اس بات کے محتاج تھے کہ اُن کی خبر گیری کی جاتی مگر اُن کے لڑکوں یا لڑکیوں نے اُن کی طرف توجہ نہیں کی۔کیونکہ وہ لڑکیاں اپنے خاوندوں یا لڑکے اپنی بیویوں کے چونچلوں میں مشغول ہو گئے۔یہ نظارہ عام طور پر دنیا میں نظر آتا ہے کہ گھروں میں ماں باپ کی قدر نہیں کی جاتی۔گو بعض قدر کرنے والے بھی ہوتے ہیں مگر وہ خدمت سے قاصر رہتے ہیں ادھر وہ جوان ہوئے اور اُدھر اُن کے ماں باپ دنیا سے چل بسے تو جب بالعموم یہ بات دنیا میں نظر آتی ہے تو ان حالات میں یہ شدید خواہش جو انسان کے دل میں اولاد کے متعلق پائی جاتی ہے وہ دماغی تاثرات کا نتیجہ نہیں قرار پاسکتی۔بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض طبعی خواہش ہے۔عقلی خواہش کی بنیاد ہمیشہ دلیل اور تجربہ پر ہوتی ہے لیکن طبعی خواہش کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہوتی۔پس جب دنیا میں اس بات کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی تو معلوم ہوا کہ یہ طبعی خواہش ہے جو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں تسلسل قائم رکھنے کے لئے رکھی ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ اولاد سے نام قائم رہتا ہے مگر نام کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو کہاں قائم رہتا ہے؟ کوئی پوچھے کہ تمہارے پڑدادا کا نام کیا ہے؟ تو لوگ کہہ دیتے ہیں پتہ نہیں حالانکہ پڑدادا قریب کی چیز ہے۔پڑدادا کے معنے ہیں باپ کا دادا۔تو دنیا میں ہزاروں لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو اپنے پڑدادا کا نام نہیں جانتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی اس مسجد کے