خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 198

+1945 198 خطبات محمود کوئی نام آتا تو سیاسی لحاظ سے مسٹر چرچل (Mr۔Churchill) کا نام آنا چاہیے تھا یا ہندوستان کے تعلقات کے لحاظ سے مسٹر ایمری کا نام آنا چاہیے تھا۔یا پرانے تعلقات کے لحاظ سے ارل ونٹر سن، سرٹیلر (Sir Taylor ) یا لارڈ ہیلی فیکس(Lord Halifax) کا نام آنا چاہئے تھا۔یا کشمیر کے معاملہ کے وقت کے میل جول کے لحاظ سے لارڈ ٹسیپٹن کا نام آنا چاہئے تھا جو پہلے سموئیل ہوم (Samuel Holme) کہلاتے تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے بعض کے ساتھ ہمارے تعلقات جماعتی طور پر رہے ہیں اور ہم نے ان سے کوئی کام لیا ہے۔اور بعض وہ ہیں جن سے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو ملنے کا موقع ملا ہے۔یا بعض لوگ ایسے ہیں جن سے بر اوراست ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن سیاسی لحاظ سے وہ انگلستان کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔پس یہ الہی خواب ہونے کا ایک نشان اور ثبوت ہے کہ ایسے شخص کے متعلق خبر دی گئی ہے جن کے ساتھ گزشتہ زمانہ میں ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور عقل باور نہیں کر سکتی کہ ایسے شخص کو چنے کی دماغ کوئی خاص مناسبت رکھتا تھا۔دماغ تو ایسے ہی آدمیوں کو چن سکتا ہے جن کے ساتھ سابق میں کوئی تعلق رہا ہو۔لیکن ایسا شخص جس کے ساتھ نہ ہمارے دوستوں کا کوئی تعلق ہے نہ ہی ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی اس نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ نمایاں حیثیت سے آگے آیا ہو اور لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔اس کا نام بتایا جانا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ خواب دماغی نہیں بلکہ خدائی ہے۔۔اس کے بعد میں آج کے خطبہ کا مضمون لیتا ہوں۔میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ قومیں اگلی نسل سے بنا کرتی ہیں کوئی قوم اپنی زندگی کا اعتبار نہیں کر سکتی۔اگر اس کی انگلی نسل کارآمد، نیک اور محنتی نہ ہو۔جب کبھی قوم پر زوال آتا ہے تو آئندہ نسلوں سے آتا ہے اور جب بھی ترقی ہوتی ہے تو وہ بھی آئندہ نسلوں سے ہوتی ہے۔دوام بخشنے والی چیز اولاد ہی ہے۔اگر اولاد انسان کو حاصل ہوتی ہے تو اس خاندان کا نام رہتا ہے اور اگر اچھی اولاد حاصل ہوتی ہے تو اس کے مذہب اور اس کی قوم کا نام رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو انسان کے اندر اولاد کی خواہش رکھی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو دوام بخشا چاہتا ہے۔ہر ماں اور ہر باپ ایک لڑکے یا لڑ کی کی جستجو میں رہتے ہیں۔جن گھروں میں اولاد نہیں ہوتی باپ