خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 12

$1945 12 خطبات محمود بے شک امریکہ کا کوئی کروڑ پتی یا ہندوستان کا کوئی کروڑ پتی ایک کروڑ روپیہ دے سکتا ہے۔مگر جان کے مقابلہ میں وہ زیادہ سے زیادہ جان ہی دے سکے گا ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔پس یہ وہ چیز ہے جس میں جماعت نمونہ دکھا سکتی تھی مگر افسوس ہے کہ اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔تبلیغ کے کام کے لئے ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اگر کم سے کم تعداد رکھی جائے اور ایک ہزار مبلغ سے کام چلانے کی سکیم سامنے رکھی جائے تو بھی موجودہ رفتار کے لحاظ سے اتنے آدمی اڑھائی سو سال میں ہمیں مل سکتے ہیں۔تحریک جدید کے پہلے دور میں میں نے صرف اس کا اعلان کیا تھا مگر اب میں جماعت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کا ثبوت دے اور نوجوان زندگیاں وقف کریں۔ہر احمدی گھر سے ایک نوجوان ضرور اس کام کے لئے پیش کیا جائے۔مگر ہمارے مشورہ سے پیش کیا جائے۔کیونکہ سب کو فورا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ہم باری باری لیں گے۔اس سال پچاس دیہاتی مبلغ لئے جائیں گے یوں تو صرف پنجاب کے لئے موجودہ حالات میں کم سے کم دو سو دیہاتی مبلغین کی ضرورت ہے مگر اس سال صرف پچاس لئے جائیں گے۔ہیں سے تیس سال تک عمر کے دوست جو کم سے کم مڈل تک تعلیم رکھتے ہوں اپنے نام پیش کریں۔چالیس سال عمر کے موزوں آدمی بھی لئے جاسکتے ہیں۔انہیں سال ڈیڑھ سال تک ضروری تعلیم دینے کے بعد مختلف دیہات میں مقرر کر دیا جائے گا۔اور اسی طرح مدرسہ احمدیہ میں بھی داخلہ کے لئے ہر سال کم سے کم پچاس طالبعلم آنے چاہئیں۔سو ہوں تو بہت بہتر ہے۔ان کی تعلیم آٹھ سال میں ختم ہو گی۔اگر پچاس طالب علم ہر سال داخل ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آٹھ سال کے بعد ہمیں 25 آدمی کام کے لئے مل سکیں گے۔گویا اٹھارہ سال کے بعد 250 آدمی مل سکیں گے۔اور اگر ہر سال سو طالب علم داخل ہوں تو 18 سال کے بعد پانچ سو حاصل ہوں گے۔یہ کتنا لمبا عرصہ ہے پھر اتنے لمبے عرصہ کے بعد بھی جو آدمی ملیں گے وہ بالکل ناکافی ہوں گے۔کیونکہ دنیا میں تبلیغ کے علاوہ نئے آنے والوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس دوست اپنے لڑکوں کو اس تحریک کے ماتحت پیش کریں اور جن کے ہاں اولاد نہ ہو یا ہو مگر بڑی عمر کی ہو۔یا جن کے ہاں لڑکیاں ہی ہوں لڑکے نہ ہوں تو وہ ایک دیہاتی