خطبات محمود (جلد 26) — Page 13
$1945 13 خطبات محمود مبلغ یا مدرسہ احمدیہ کے ایک طالب علم کا ماہوار خرچ دیں۔یا چند دوست مل کر ایک طالب علم کا خرچ برداشت کریں جو آج کل کے لحاظ سے ہیں روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہو گا تاغر باء کے بچوں کو تعلیم دلائی جا سکے۔لیکن اصل قربانی تو جان کی ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بھی رکھا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے دوستوں کو اسماعیل جیسی قربانیاں کرنی ہوں گی۔ہر سال عید آتی ہے اور ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔آپ لوگ عید کے موقع پر بکرے ذبح کرتے ہیں مگر یہ اصل قربانی نہیں یہ تو صرف علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آئے گا آپ اپنی جانیں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر اب جانی قربانی کا وقت آگیا ہے لیکن دوست ابھی بکرے ہی پیش کرتے ہیں جانیں پیش نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپ نے فرمایا تَرَكْتُ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ كتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتی 5 کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں یعنی قرآن کریم اور عترت۔شیعہ لوگ عترت سے مراد حضرت علی الیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں۔عترت کے معنے ہیں وہ مخلص لوگ جو دین کی خاطر اپنے آپ کو ذبح کر دینے کے لئے تیار ہوں۔الْعَتِيْرَةُ اُس قربانی کا نام ہے جو بتوں کے آگے پیش کی جاتی تھی۔عربی میں محاورہ ہے الله سة عَتَرَ الْعَتِيْرَةَ۔اس نے بت کے آگے بکری کی قربانی پیش کی۔پس رسول کریم صلی نیلم کے قول کا یہ مطلب ہے کہ میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں ایک قرآن کریم اور دوسرے ایسے لوگ جو اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔جب تک یہ دونوں چیزیں باقی رہیں گی اسلام مٹ نہیں سکتا۔شیعوں نے عشرتی کے معنے حضرت علی اور اہل بیت کے کئے ہیں اور وہ اس سے ان کی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت علی بھی عترت تھے۔مگر دنیوی رشتہ داری کے لحاظ سے نہیں۔بلکہ اس لئے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں جان کی قربانی کر دی۔ہم ان کے عترت ہونے کا انکار نہیں کرتے۔صرف اس وجہ کا انکار کرتے ہیں جو شیعہ پیش کرتے ہیں۔وہ ضرور عترت تھے مگر اس لئے تھے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و کی خاطر اپنی جان قربانی کے لئے پیش کر دی۔جب کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خطبہ کے بعد تین وظائف تین طالب علموں کے لئے میرے پاس آچکے ہیں۔