خطبات محمود (جلد 26) — Page 188
$1945 188 خطبات محمود اُس وقت تک نہیں پہنچے۔میں نے جلدی جلدی اوپر چڑھنا شروع کر دیا تا کہ اتم طاہر کو بیدار کر دوں۔بہت اونچا جا کر عمارت ایسی ہے کہ ایک طرف شیڈ (Shed) سا بنا ہوا ہے اور ساتھ صحن ہے۔وہاں اُتم طاہر سورہی ہیں اور ایک بچہ ان کے پاس سو رہا ہے۔میں نے جس وقت یہ خواب دیکھا 1940ء کی بات ہے۔اُس وقت ہماری لڑکی امتہ الجمیل ساڑھے تین سال کی تھی تو میں نے دیکھا کہ اُمم طاہر وہاں سو رہی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ سو رہا ہے۔میں نے اُمم طاہر کو جگاناشروع کیا لیکن وہ میرے جگانے پر جلدی نہ اٹھیں۔میں کہتا ہوں کہ خطرہ ہے اٹھو اور بچہ کو لے لو مگر انہوں نے اٹھنے میں دیر کی تو میں نے وہ بچہ اٹھا لیا۔اس وقت وہ بچہ لڑکا بن گیا ممکن ہے اللہ تعالیٰ اُمّم طاہر مرحومہ کی بچیوں یا بچوں کو مبارک لڑکا دے یا امۃ الجمیل جو لڑکے کی صورت میں دکھائی گئی ہے ممکن ہے جیسے حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہی مردوں کے کام کی توفیق دے دے۔بہر حال میں نے بچہ کو اٹھالیا اور میں نے کہالو میں بچہ لے کر چلتا ہوں تم جلدی جلدی میرے پیچھے آؤ۔وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مٹی ڈال کر کسی اونچی جگہ پر رستہ بنا دیا جاتا ہے۔جیسے پہاڑوں پر مکان ہوتے ہیں اور ایک منزل نیچے اور ایک اوپر ہوتی ہے اور اوپر کی منزل کے ساتھ بھی گو وہ اونچی ہوتی ہے پہاڑ پر رستہ مل جاتا ہے۔اسی طرح اس مکان کی بھی دوسری یا تیسری منزل ہے اور وہاں سے بھی ایک سڑک نیچے کی طرف جاتی ہے۔اُس پر میں تیز تیز چلتا ہوں اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا جاتا ہوں اور اُتم طاہر کو اشارہ کرتا چلا جاتا ہوں کہ جلدی جلدی چلو۔دور جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ جھونپڑیاں ہیں جن کی پھوس کی دیواریں اور پھوس کی چھتیں ہیں۔وہاں ایک کٹہرے کے ساتھ جو سڑک پر بنا ہوا ہے مجھے ایک عورت نظر آئی۔میں نے اسے کہا کہ کیا یہاں کوئی ٹھہرنے کی جگہ مل سکتی ہے ؟ اُس نے کہا ہاں مل سکتی ہے۔اتنے میں اُم طاہر بھی قریب آگئیں اور میں نے اُس عورت سے کہا کہ بتاؤ کونسی جگہ ہے ؟ وہ ہمیں گاؤں میں لے گئی۔جیسے گاؤں میں جگہیں ہوتی ہیں کہیں اُپلے پڑے ہیں اور کہیں کوڑا کرکٹ پڑا ہے۔ایسی جگہوں سے چلتے چلتے ایک چھوٹی سی پھوس کی دیواروں والی جھونپڑی آئی۔وہ ہمیں وہاں لے گئی۔کچھ لوگ وہاں جمع ہو گئے۔میں نے ان سے حالات پوچھنے شروع کئے۔حالات پوچھتے ہوئے مذہب کی باتیں شروع ہو گئیں۔