خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 187

+1945 187 خطبات حمود خواب پورا کرنا ہے تو روز ویلٹ کو مار دو۔گویا اس کے لئے خواب کو پورا کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ مسٹر روز ویلٹ فوت ہو جائے۔اور یہ عجیب بات تھی کہ اُس کے منہ سے ایسا لفظ نکلا جو قدرت کی طرف سے ایک دوسرے رنگ میں خواب کو پورا کرنے کا ذریعہ بننے والا تھا۔اسی تسلسل میں مجھے اپنا ایک رؤیا یاد آ گیا جو 1941ء کے شروع کا ہے۔مجلس شوریٰ کے موقع پر دوسرے دن شام کو باہر سیر کرتے وقت میں نے یہ رویا چو دھری ظفر اللہ خان صاحب کو سنا دیا تھا اور اُتم طاہر مرحومہ کو بھی سنایا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ خواب مجھے بُھول گیا۔ایک دن ٹہلتے ٹہلتے مجھے اس کا خیال آیا اور اس پر میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ خواب کیا تھا۔میں نے اتم طاہر مرحومہ سے کہا کہ مجھے ایک خواب بُھول گیا ہے اس وقت وہ ذہن میں نہیں آتا وہ اہم خواب تھا۔انہوں نے کہا ایک خواب آپ نے مجھے بھی سنایا تھا وہی تو نہیں۔پھر انہوں نے وہ خواب سنایا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ آپ نے مجھے خواب سناتے وقت یہ بتایا تھا کہ یہ خواب آپ نے چودھری ظفر اللہ خانصاحب کو بھی سنایا تھا۔وہ خواب بھی آئندہ کے حالات کی طرف اشارہ کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ترکوں کے علاقہ میں ہوں اور ایک بڑی بھاری عمارت ہے اس میں ٹھہرا ہوا ہوں۔کسی نے میری دعوت کی ہے اور میں اُس دعوت میں گیا ہوں۔جب میں دعوت سے واپس آیا تو اس وقت میں اکیلا ہوں۔ساتھ والے دوست جو ہیں اُن میں سے کوئی بھی اُس وقت ساتھ معلوم نہیں ہو تا۔عمارت جس میں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ صرف اُمّم طاہر مرحومہ میرے ساتھ ہیں اور وہ اوپر کے کمرے میں سو رہی ہیں۔جب میں اس عمارت کے پہلے کمرے میں داخل ہوا ہوں تو مجھے پیچھے سے آہٹ سنائی دی اور مجھے شبہ ہوا کہ کوئی شخص کمرے کے اندر آنا چاہتا ہے۔میں نے روشندان میں سے باہر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ایک شخص فوجی وردی پہنے ہوئے کمرے کے اندر جھانک رہا ہے۔میں نے کھڑکی کے پاس سے آکر باہر کی طرف جھانکا تو مجھے معلوم ہوا کہ چند فوجی افسر باہر کھڑے آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور ان کا منشایہ معلوم ہوتا ہے کہ حملہ کر کے عمارت کے اندر گھس جائیں۔پہرے دار اور دوسرے ساتھی