خطبات محمود (جلد 26) — Page 157
خطبات محمود 157 $1945 آئندہ نسلیں اپنے باپ دادوں پر لعنتیں کریں گی۔اور یہ ملک غلامی کی ایسی زنجیروں میں جکڑا جائے گا کہ سینکڑوں سالوں کی قربانیاں بھی اس سے رہائی کے لئے کافی نہ ہوں گی۔پس میں اپنی اس آواز کے جو میں نے 12 جنوری 1945ء کو بلند کی تھی دوسرے حصہ کی طرف دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور انہوں نے اس کے پہلے حصہ کو انگلستان میں بلند کیا۔پنجاب، بنگال، بمبئی، مدراس، یوپی، سی پی، اڑیسہ ، بہار، صوبہ سرحد، صوبہ سندھ اور ریاستوں کے احمدیوں کو چاہیے کہ وہ میری اس آواز کے دوسرے حصہ کو اب ہندوستان میں ہر جگہ بلند کریں کہ ہندوستان کو چاہیے انگلستان کے ساتھ صلح کر لے۔انگلستان کا پچھلا سلوک ہندوستان کے ساتھ اچھا تھا یا بُرا ہندوستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ اُسے بھول جائے اور آپس میں صلح کر کے دونوں ایک مشترکہ محاذ قائم کریں کہ انسانیت اور حریت پر کوئی ضرب نہ لگ سکے۔اور وہ دونوں مل کر دنیا میں آزادی، خریت اور امن قائم کر سکیں۔بھی (ب) دوسری بات اس سلسہ میں یہ ہے کہ میں نے جلسہ سالانہ سے قبل اور جلسہ پر دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ ہمیں کمیونسٹ تحریک کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔اس کے بعد 17 فروری کے قریب میں نے خواب دیکھا کہ ”اخبار انقلاب“ لاہور کا ایک پرچہ میرے ہاتھ میں ہے۔میں اسے پڑھتا ہوں۔اس کے ایک صفحہ پر میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ کچھ سطریں لکھی ہوئی ہیں۔پھر کچھ سطر میں اُڑی ہوئی ہیں اور پھر ڈیڑھ سطر لکھی ہوئی ہے۔اس کے بعد پھر کچھ سطریں اُڑی ہوئی ہیں۔جس طرح کسی مضمون کے بعض حصے سنسر نے کاٹ دیئے ہوں۔درمیان میں جو سطر لکھی ہے میں اسے پڑھتا ہوں تو اُس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ”امام جماعت احمدیہ نے پنجاب یونیورسٹی کا انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔“ یہ خبر پڑھ کر مجھے اپنے نفس پر بہت غصہ آیا اور میں نے دل میں کہا کہ میں نے یہ امتحان کیوں دیا۔جب مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا علم دیا ہے اور اتنا بلند مقام عطا کیا ہے تو مجھے انٹرنس (Entrance) کا امتحان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اور میں نے یہ امتحان کیوں دیا۔ایک دو منٹ کے بعد میری یہ غصہ اور انقباض کی حالت دور ہوئی تو میں نے خیال کیا کہ میں نے جب یہ امتحان دیا ہے