خطبات محمود (جلد 26) — Page 158
$1945 158 خطبات محمود تو یہ کوئی بے ہودہ حرکت نہیں کی اس میں بھی ضرور اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت مخفی ہو گی۔اور پھر میں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ جب انٹرنس کا امتحان پاس کیا ہے تو اب بی اے کا امتحان بھی دے دوں۔پھر مجھے خیال آتا ہے کہ بی اے کا امتحان تو ایف اے کا امتحان پاس کئے بغیر نہیں دیا جا سکتا۔مگر خود ہی دل میں کہتا ہوں کہ یونیورسٹی مجھے بی اے کا امتحان دینے کی اجازت دے دے گی۔میں نے یہ خواب دیکھا اور حیران تھا کہ یہ کیا بات ہے۔دوسرے تیسرے روز جب میں مسجد میں اپنے بعض رویا بیان کرنے لگا تو یہ رؤیا مجھے بھول گئی۔یہ یاد تھا کہ ایک اور اہم رؤیا ہے مگر دوسرے رؤیا بیان کرتے کرتے یہ بھول گئی۔اب جو لاہور میں کمیونزم کے متعلق میرا لیکچر ہوا تو اس کے بعد ایک دن اخبار دیکھتے ہوئے امتحان کا لفظ جو سامنے آیا تو معا یہ رویا یاد آگئی اور ساتھ ہی اس کی تعبیر بھی سمجھ میں آگئی۔انٹرنس کے معنے ہیں دروازہ کے۔کسی بڑی جلسہ گاہ یا تماشہ گاہ کے بڑے دروازہ کو انٹرنس کہتے ہیں۔اور میں نے کمیونزم کے متعلق جو لیکچر دیا اس میں پنجاب یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسر کثرت سے شامل ہوئے۔اور اس طرح ہم گویا پنجاب یونیورسٹی کے علمی حلقوں میں داخلہ میں کامیاب ہو گئے اور اپنے خیالات کامیابی سے ان تک پہنچا دیئے۔بہت سے طالب علم اور پروفیسر میری اس تقریر کے نوٹ لیتے رہے اور بعض لوگوں نے سنایا کہ ایک پروفیسر پر تو اتنا اثر ہوا کہ وہ رو پڑا اور تمام کالجوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔بعد میں پروفیسر اور طلباء آآکر ملتے رہے۔اور بعض طالب علموں نے سنایا کہ بعض چوٹی کے پروفیسروں نے معذرتیں کیں اور اس امر پر افسوس کیا کہ وہ بعض دوسری مصروفیتوں کی وجہ سے لیکچر نہ سن سکے۔اور اس طرح میری وہ رویا پوری ہو گئی کہ امام جماعت احمدیہ نے پنجاب یونیورسٹی کا انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا۔اور رؤیا کا یہ حصہ جو ہے کہ میں کہتا ہوں اب بی اے کا امتحان بھی دے دوں تو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر ہم اس کوشش کو جاری رکھیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ پر سے کمیونزم کا اثر دور ہو جائے تو اس میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے ایک اور لیکچر کمیونزم اور مذہب کے موضوع پر دینے کا ارادہ کیا ہے۔اور ایک رات بیٹھ کر اس کے نوٹ بھی لکھ لئے ہیں۔پہلا