خطبات محمود (جلد 26) — Page 151
$1945 151 خطبات محمود کیونکہ آریہ تو خود ان کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ان کے عقیدہ کے مطابق تو ویدوں کے بعد اور کوئی صداقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام آہی نہیں سکتی۔اگر کسی عدالت میں کوئی مقدمہ چلا اور آریوں کے اس عقیدہ کو احمدی زیر بحث لائے اور انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آریہ ان کو کیا کہتے ہیں اور ہم کیا کہتے ہیں۔ہم تو ان کو بنی نوع انسان کے لئے نمونہ اور استاد سمجھتے ہیں۔اور ہم اس افسر کی شکل دیکھنا چاہتے ہیں جو اسے بھی ہتک قرار دیتا ہو۔تو سوچو کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ایک دفعہ یہاں سکھوں کے لیڈر بابا کھڑک سنگھ صاحب آئے۔قادیان کے پاس ہی ایک جگہ سکھوں نے جلسہ کیا اور بابا صاحب نے اس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گورونانک صاحب کو مسلمان کہہ کر ان کی ہتک کی جاتی ہے۔میں نے دوسرے دن ایک اشتہار شائع کر ایا جس میں لکھا کہ ہم تو ان کو مسلمان کہتے ہیں مگر دوسرے مسلمان جو آپ کو ہمارے خلاف اکساتے ہیں ان سے پوچھیں وہ ان کو کیا سمجھتے ہیں۔وہ تو کافر سمجھتے ہیں۔کیونکہ اسلام کی یہی دونوں اصطلاحیں ہیں۔مسلمان یا کافر۔اور جو کسی کو مسلمان نہیں سمجھتا وہ گویا اُسے کافر سمجھتا ہے۔ہم تو بابا نانک صاحب کو مسلمان یعنی نیک بزرگ اور خد اتعالیٰ کا بر گزیدہ سمجھتے ہیں۔مگر یہ لوگ انہیں کا فر کہتے ہیں جس کے معنے ہیں جہنمی۔پس آپ کو اُن پر غصہ کرنا چاہیے نہ کہ ہم پر۔دوسرے دن میرے اشتہار کو پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے خواہ مخواہ در غلایا۔ہم تو باوانانک صاحب کو مسلمان، متقی، پرہیز گار اور ولی اللہ سمجھتے ہیں۔مگر جو مسلمان انہیں مسلمان نہیں سمجھتے وہ تو مجبور ہیں کہ انہیں کافر سمجھیں۔اور اگر کسی عدالت کے سامنے یہ سوال آیا تو لازماً ایک فریق غیر احمدی علماء کو پیش کرنے کا مطالبہ کرے گا اور پوچھے گا کہ وہ باوا نانک صاحب کو کیا سمجھتے ہیں۔اور پھر پوچھے گا کہ حکومت اور سکھ کیا پسند کرتے ہیں۔یہ کہ باوانانک صاحب کو خدا کا برگزیدہ اور ولی اللہ کہا جائے یا نعوذ باللہ کا فر۔پھر یہ بات بھی کوئی نئی نہیں۔46،45 سال پہلے یہ بات لکھی گئی تھی آج اس پر کسی کو اشتعال آنے کے کوئی معنے نہیں۔میں نے تو دیکھا ہے کہ عقلمند سکھ اس بات کو سن کر خوش ہوتے ہیں۔وہ یہ تو کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کا یہ خیال صحیح نہیں کہ باوانانک صاحب مسلمان تھے مگر اِس بات کو