خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 102

خطبات محمود 102 +1945 ہم ایسی ناممکن بات بھی مان لیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔اسی طرح قیصر روما نے جب ابو سفیان کو اپنے دربار میں بلا کر اُس سے پوچھا کہ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھی جھوٹ بولتے ہیں اور کیا انہوں نے تمہارے ساتھ کبھی جھوٹا معاہدہ کیا ہے ؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ ان کے پچھلے افعال کے متعلق تو میں کوئی گرفت نہیں کر سکتا اب انہوں نے ایک معاہدہ کیا ہے دیکھیں وہ عہد شکنی کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔5 تو قیصر نے کہا آئندہ کا جانے دو۔جب اس نے پیچھے تمہارے ساتھ عہد شکنی نہیں کی تو یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آئندہ بھی نہیں کرے گا۔تو شدید سے شدید دشمن کو بھی جو آپ سے لڑائی کر رہا تھا یہ جرات نہیں تھی کہ وہ آپ کے متعلق یہ کہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ بولا۔یا کوئی معاہدہ کیا اور اس میں عہد شکنی کی۔یہی وہ چیز تھی کہ مسلمان جب کسی ملک میں بھی جاتے تو وہاں کے لوگ اُن کا اِس طرح استقبال کرتے کہ اپنے رشتہ داروں کا بھی اُس طرح استقبال نہیں کیا جاتا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ وہ قوم ہے جو جھوٹ نہیں بولتی، یہ وہ قوم ہے جو دیانتدار ہے اور یہ وہ قوم ہے کہ جب معاہدہ کرے تو اسے پورا کرتی ہے۔دنیا تو آخر امن چاہتی ہے۔اگر اسے حقیقی امن نصیب ہو جائے تو جس کے ذریعہ سے اسے امن نصیب ہو گا خواہ وہ اُس کا دشمن ہی ہو دنیا اُس کو مان لے گی۔احمدی اپنے اپنے رنگ میں اخلاص دکھاتے رہے ہیں۔ایک احمدی مغلا نام تھا۔شروع شروع میں یہاں آکر بھی رہا ہے۔نوجوان احمدی تھا۔غالباً حضرت خلیفہ اول کے آخری زمانہ میں یا میرے شروع زمانہ میں احمدی ہوا تھا۔جھنگ کا رہنے والا تھا۔جب وہ احمدی ہو کر واپس گیا تو اس کے بھائیوں اور باپ نے اُس کی بہت مخالفت کی اور اسے مارا پیٹا۔سارے علاقے نے کہہ دیا کہ یہ کافر ہو گیا ہے۔مدتوں تک اُس پر ظلم ہوتے رہے۔اس علاقہ میں جانوروں کی چوری کا عام رواج ہے۔جیسے گوجر انوالہ اور گجرات میں بھی جانوروں کی چوری کو فن سمجھا جاتا ہے۔ان علاقوں میں ایسی ایسی قومیں بھی ہیں جن میں یہ رواج ہے کہ اُس وقت تک لڑکے کے سر پر پگڑی نہیں پہنائی جاتی جب تک بھینس چرا کر بہن کو نہ دے۔گویا یہ بھی ان کے شرفاء کے اعلیٰ اخلاق میں سے ہے کہ وہ چوری کا فن جانتا ہو۔چنانچہ گوجرانوالہ کے