خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 101

$1945 101 خطبات محمود تو اُس علاقہ میں ہوتے ہی نہیں۔ایک ٹیلہ تھا جس کا نام ابو قبیس ہے۔اُس پر کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے لوگوں کو بلانا شروع کیا کہ اے فلاں قبیلہ کے لوگو! ادھر آؤ اور اے فلاں قبیلہ کے لوگو! تم بھی ادھر آؤ۔جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا دشمن تم پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے ؟ اب بظاہر یہ بات نا ممکن تھی اس لئے کہ اس ٹیلہ کے پیچھے میدان تھا جس میں کھڑی ہونے والی فوج نظر آسکتی تھی اور ہر دیکھنے والا شخص آکر بتا سکتا تھا کہ وہاں فوج کھڑی ہے۔پھر یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی بڑی فوج وہاں جمع ہو جہاں پانی وغیرہ کا بھی کوئی انتظام نہیں اور کسی کو نظر بھی نہ آئے۔پس بظاہر یہ ناممکن تھا کہ اتنی بڑی فوج وہاں جمع ہو اور مکہ والوں کو اس کا علم نہ ہو۔جیسے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کامکہ والوں کو پتہ لگ گیا تھا۔اور پھر مکہ پر کسی کے حملہ کرنے کا خیال بھی ان لوگوں کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ مکہ تمام عرب کے نزدیک ایک متبرک مقام تھا اور مذہبی طور پر لوگ اس کا احترام کرتے تھے اس لئے مکہ پر حملہ کرنے کا خیال بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن آپ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہم مان لیں گے۔گویا ان کو آپ کی سچائی پر اتنا اعتبار اور اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس قسم کی ناممکن بات بھی کہیں تو ہم اس کو رد نہیں کریں گے اور اسے مان لیں گے۔مگر جس وقت آپ نے فرمایا کہ اگر تم کو مجھ پر اتنا اعتبار اور اتنا اعتماد ہے تو میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے مقرر فرمایا ہے کہ میں تمہیں متنبہ کر دوں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اگر تم باز نہیں آؤ گے اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ گے تو وہ تمہیں عذاب دے گا۔تو یہ سن کر وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ بے چارہ پاگل ہو گیا ہے۔4 تو جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا سوال تھامکہ والے باوجو د اس کے کہ وہ آپ کے دشمن تھے پھر بھی وہ آپ کی سچائی کا یہاں تک اقرار کرتے تھے کہ آپ کی طرف سے پیش ہونے والی ایک فرضی اور بظاہر ناممکن بات ماننے کے لئے بھی آمادگی کا اظہار کرتے تھے کہ