خطبات محمود (جلد 26) — Page 64
$1945 64 خطبات حمود کہاں توفیق مل سکتی ہے کہ ہم یہ پتہ لگائیں کہ ہمارے نوجوان اس علم کو جان گئے ہیں یا نہیں۔میں سمجھتا ہوں ایسے مقابلہ میں آکر ہمیں صحیح طور پر پستہ لگ جائے گا کہ ہمارے نوجوانوں کے علم میں خامیاں ہیں یا نہیں۔اگر خامیاں ہوں گی تو ہم سوچ سکیں گے کہ کس رنگ میں ان کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اگر خامیاں نہیں ہوں گی تو پھر اسی طریق پر ہندو مذہب کے نئے علماء پیدا کرنے میں ہمیں سہولت ہو گی۔اس وقت تک ہماری یہ کمزوری ہے کہ ہم ہندوؤں اور سکھوں کو صرف اردو میں ہی تبلیغ کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں میں بھی اردو جاننے والے موجود ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ خواہ وہ اردو جانتے ہوں مگر وہ مانوس ہندی اور گور مکھی سے ہیں۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس زبان سے انسان مانوس ہو اُس کی طبیعت پر زیادہ اثر اسی زبان میں ہی تبلیغ کرنے سے ہو سکتا ہے۔مثلاً اردو کو ہی لے لو۔اردو میں بعض چیزوں کے دو دو لفظ ہوتے ہیں۔ایک لفظ عربی یا فارسی کا ہوتا ہے اور دوسر الفظ ہندی یا بھاشا کا ہو تا ہے۔اگر کوئی مقرر کھڑ ا ہو اور اپنی تقریر میں چن چن کر ہندی یا بھاشا کے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دے تو ہماری مجلس اس بات کو عجیب سا سمجھے گی اور اس کی باتوں سے اتنا متاثر نہیں ہو گی جتنا کہ عام اردو زبان سے متاثر ہو سکتی ہے۔مثلاً ایک لفظ ہے ابر آیا، برکھا آئی۔ایک لفظ فارسی ہے اور ایک ہندی، گو دونوں لفظ ہم سمجھتے ہیں مگر ایک مقرر اگر کھڑا ہو کر چن چن کر ایسے ہندی الفاظ استعمال کرنا شروع کر دے تو گو وہ بولے اور سمجھے بھی جاتے ہوں گے مگر جب وہ ان الفاظ کو جمع کر کے لے آئے گا تو گو ان کا سمجھنا تو مشکل نہیں ہو گا مگر وہ الفاظ ہمارے اندر وہ کیفیت جذب پیدا نہیں کر سکیں گے جو کیفیت عام اردو الفاظ سے ہمارے اندر پیدا ہو سکتی ہے۔ہم صرف اسی خیال میں رہیں گے کہ کیسے کیسے انوکھے الفاظ استعمال کر رہا ہے۔اسی طرح ایک ہندو یا ایک سکھ گو اردو سمجھتا ہے بالعموم شہری طبقہ مگر دیہات کا بھاری طبقہ ایسا ہے جن کی اردو اپنی ہی قسم کی ہوتی ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ کئی دفعہ ایسے لوگوں سے بات کرتے وقت ان کو ٹوک ٹوک کر پوچھنا پڑتا ہے کہ آپ کے اس فقرہ کا مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔کیونکہ ان کی زبان میں ہندی اور گور مکھی کے ایسے پرانے الفاظ ہوتے ہیں جنہوں نے اردو کی شکل اختیار نہیں کی۔پس ہم اُس وقت تک اسلام اور احمدیت کی