خطبات محمود (جلد 26) — Page 63
$1945 63 خطبات محمود بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے۔کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دل شکنی ہو یا اس بات کو بھی میں مد نظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔لیکن ہمارے نوجوان بعض دفعہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں مضمون زیر بحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کر دیتے ہیں۔تو میں اس بات میں بھی ان کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کا ذکر نہ کریں جو براہِ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں۔جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے۔انشاء اللہ جب یہ جواب شائع ہو گا تو اس سے دو فائدے ہوں گے۔ایک تو آریہ سماج کا پرانا قرضہ جو ہمارے ذمہ تھا وہ اتر جائے گا۔اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اس قسم کی اہم کتاب کا جواب دینے کی آریہ سماج ضرور کوشش کرے گی۔اور جب اس کی طرف سے اس کا جواب دیا جائے گا تو ہمیں پتہ لگ جائے گا کہ ہمارے نوجوانوں کی ہندی جاننے کی ذاتی قابلیت کہاں تک ہے۔اس وقت ہم پورے طور پر فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ہمارے نوجوان کس حد تک ہندی یا سنسکرت جانتے ہیں۔لیکن جب آریہ سماج کی طرف سے اس کا جواب دیا جائے گا کہ تمہارا فلاں ترجمہ غلط ہے فلاں معنے لغت کے خلاف ہیں تو پھر ہم کو بھی صحیح طور پر موازنہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔اور ہمیں آئندہ سنسکرت کے علماء پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔دراصل ہندو علم اتنا مخفی ہے اور ہمیں اس کے متعلق اتنی ناواقفیت ہے کہ ہم پورے طور پر ہندو مذہب کے عالم بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں۔بعض علوم ایسے ہیں جن کا اندازہ ہم کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے جاننے والے ہمیں کثرت سے ملتے ہیں مگر ویدوں کا علم اس قسم کا ہے کہ خود ہندوؤں میں بھی اس علم کو جاننے والے بہت کم ہیں۔بلکہ بعض لوگوں کا تو خیال ہے کہ سارے ہندوستان میں کل تین آدمی ویدوں کا علم جاننے والے ہیں۔تو جہاں سارے ہندوستان میں ویدوں کے جاننے والے گل تین آدمی ہوں وہاں ہمیں