خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 59

+1945 59 خطبات محمود سفر کرنے دیجئے تو وہ کہیں گے کرایہ کے لئے پیسے لاؤ۔پس جس واقف زندگی کو ہم یہ کہیں کہ پیدل پھر کر دنیا میں تبلیغ کرو کیا یہ پیدل پھر کر اپنے اُس دشمن کا مقابلہ کر سکتا ہے جس کے مبلغ ریلوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں ؟ وہ اگر ایک دن میں دس جگہوں پر پہنچ کر تبلیغ کرے گا یا ایک ماہ میں سارے ملک کا چکر لگالے گا تو یہ پیدل سفر کر کے ساری عمر میں اُس ملک کا چکر لگا سکے گا۔تو اُس کا اور اس کا مقابلہ کہاں ہو سکتا ہے۔ایک یورپین پادری یا کسی دوسرے مذہب کا مبلغ ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور وہ ایک مہینہ کے اندر بمبئی، مدراس، بنگال اور پنجاب کے علاقوں کا دورہ کر کے لیکچر دیتا ہے۔اس کے مقابلہ کے لئے اگر ہم اپنے مبلغ کو یہ کہتے ہیں کہ پیدل سفر کر کے تبلیغ کرو تو وہ تو پیدل سفر کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ اتنی جگہوں پر وہ کتنی دیر میں پہنچے گا۔اس کی قربانی اسلام کے لئے مفید نہیں ہو گی بلکہ اسلام کے لئے مضر ہو گی۔پس یہ وہ زمانہ ہے جبکہ جانی قربانی کے علاوہ مالی قربانی کی اہمیت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔پس میں اس خطبہ میں جو وقت پر پہنچنے کے لحاظ سے آخری خطبہ ہے گو 7 فروری سے پہلے ابھی ایک اور جمعہ آئے گا مگر اُس جمعہ کا خطبہ وقت پر جماعتوں تک نہیں پہنچ سکے گا۔وقت پر پہنچنے کے لحاظ سے یہ آخری خطبہ ہے۔پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنہوں نے اس سال تحریک جدید کے وعدوں کی طرف ابھی تک توجہ نہیں کی وہ توجہ کریں اور جنہوں نے کم توجہ کی ہے وہ پوری توجہ کریں۔اور وہ لوگ جو تحریک جدید کے دفتر اول میں شامل نہیں ہوئے تھے وہ اب دفتر ثانی میں شامل ہوں۔اور جن کو خدا تعالیٰ شامل ہونے کی توفیق دے اُنہیں چاہیے کہ وہ دوسرے ایسے لوگوں کو بھی شامل ہونے کی تحریک کریں جنہوں نے ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا۔اس کے علاوہ میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تبلیغ کے لئے واقفین کے تین گروہ ضروری ہیں۔ان کے بغیر خالی روپیہ ہمیں کام نہیں دے سکتا۔ہمیں ضرورت ہے گریجوایٹ اور مولوی فاضلوں کی جو اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور انہیں ایک دو سال میں ضروری تعلیم دے کر مختلف ممالک میں تبلیغ کے لئے بھیجا جائے۔یا ہندوستان میں تبلیغ کے لئے یا سلسلہ کے اداروں میں ان کو کام پر لگایا جائے۔