خطبات محمود (جلد 26) — Page 60
خطبات محمود 60 $1945 ہمیں ضرورت ہے مڈل پاس طالبعلموں کی جو اس سال مارچ میں مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو کر اور ہر سال داخل ہو کر اور اتنی کثرت سے داخل ہو کر مبلغین کی تعداد کو بڑھائیں کہ چند سالوں میں سینکڑوں اور ہزاروں مبلغ تیار ہو جائیں۔اور ہمیں ضرورت ہے ایسے مڈل پاس یا کم از کم پرائمری پاس نوجوانوں کی جو ایک دو سال ٹریننگ لینے کے بعد دیہاتی مبلغین کا کام ے سکیں۔اس سال ہمیں پچاس دیہاتی مبلغوں کی ضرورت ہے اور اس وقت تک پینتیس آئے ہیں۔پس میں اور نوجوانوں کو جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دیہاتی مبلغین میں شامل ہوں۔یہ وہ ہوں جو واقفین کی طرح ہر قسم کی تکلیف اٹھا کر تبلیغ کے لئے تیار ہوں۔ایسے لوگ جو قربانی نہ کر سکیں تبلیغ کا کام نہیں کر سکتے۔ہم ان کو کچھ طب بھی پڑھا دیں گے اور سلسلہ کی طرف سے گزارہ کے لئے ماہوار کچھ رقم بھی دیں گے۔اس رقم سے اور طب کے ذریعہ سے وہ اپنی روزی کا سامان کر سکیں گے۔گومیری سکیم یہی ہے کہ ہمارے واقفین جس علاقہ میں جائیں وہ اُس علاقہ کو اتنا منظم کر لیں کہ وہاں کی جماعتیں اس مبلغ کا بوجھ اٹھا سکیں تاکہ نئے مبلغین تیار کرنے میں ہمیں سہولت ہو۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ پنجاب میں صحیح طور پر تبلیغ کرنے کے لئے ایک ہزار مبلغ ہونے چاہئیں۔پنجاب میں ساٹھ ہزار گاؤں ہیں۔ان ساٹھ ہزار گاؤں کے لئے اگر ہم ایک ہزار مبلغ رکھیں تو اس کے معنے ہیں ساٹھ گاؤں کے لئے ایک مبلغ۔اگر ہم اس سکیم پر عمل کریں اور ساٹھ ہزار گاؤں کے لئے ایک ہزار مبلغ رکھیں تو خط و کتابت، سٹیشنری، سفر اور گزارہ کی رقم ملا کر ایک ہزار مبلغ کے لئے تمام خرچ چھ لاکھ روپیہ سالانہ کم از کم ہونا چاہیے۔اور اگر بافراغت خرچ کیا جائے تو آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ ہونا چاہیے۔گویا ساٹھ دیہات کے لئے اگر ہم ایک مبلغ رکھیں تو چھ لاکھ سے لے کر آٹھ لاکھ روپیہ تک سالانہ خرچ کی ضرورت ہے۔مگر ہم یہ بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے۔ہمارا تو صدر انجمن کا چندہ والا سالانہ بجٹ سارا چھ لاکھ روپیہ کا ہوتا ہے۔اگر ہم وہ سارا بھی اس کام کے لئے لگا دیں تو پھر بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔گزارہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جو مبلغ یہاں سے تیار ہو کر جائیں وہ جا کر وہاں کی جماعتوں کو منظم کریں اور وہاں کی جماعتوں کا چندہ اور افراد اتنے بڑھ جائیں کہ اس مبلغ کا خرچ وہ خود برداشت کر سکیں تا کہ ہم اور مبلغ بھجوائیں۔اور