خطبات محمود (جلد 26) — Page 53
خطبات محمود 53 +1945 آپ کی شان کا علم ہوا تو یار سول اللہ ! اب وہ معاہدہ ختم ہو چکا۔اب تو یہ سامنے سمند ر ہے آپ حکم دیجئے کہ اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دو ہم بغیر چون و چرا کے اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے۔5 اور یار سول اللہ ! اگر دشمن مقابلہ پر آئے گا تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے۔اور دشمن اگر آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند تا ہوا ہی پہنچے گا اس کے بغیر نہیں پہنچ سکے گا۔6 تو دیکھو جہاں عشق ہو تا ہے وہاں اس بات کو نہیں دیکھا جاتا کہ ہم نے کیا شرط کی تھی بلکہ اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ ہم نے وہ کام کر لیا ہے یا نہیں جو ہمارے سپر د کیا گیا تھا۔پس کیا ان دس سالوں میں ہم نے روپیہ کے لحاظ سے یا آدمیوں کے لحاظ سے کام کر لیا ہے ؟ ہم نے معمولی سی تبلیغ کے لئے جس میں چند سو مبلغ ہوں تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کا اندازہ بتایا تھا اور ان دس سالوں میں گل تیرہ چودہ لاکھ روپیہ چندہ جمع کیا ہے جس میں سے کچھ ساتھ کے ساتھ خرچ ہو چکا ہے۔تو جہاں چند لاکھ روپیہ کا گل ریز رو فنڈ ہو وہاں تبلیغ کی معمولی سے معمولی سکیم پر عمل کرنے کے لئے تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کہاں سے آئے گا؟ اگر پانچ فیصدی منافع کا اندازہ لگالیا جائے جو زیادہ سے زیادہ اندازہ ہے گورنمنٹ تو اپنے کاموں میں عام طور پر اڑھائی فیصدی منافع کا اندازہ لگایا کرتی ہے۔لیکن اگر پانچ فیصدی منافع کا ہی اندازہ لگالیا جائے تو عام کاروباری اندازہ کے مطابق تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کے لئے پانچ کروڑ بیس لاکھ روپیہ کاریز رو فنڈ ہو تو اس سے تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمدنی ہو سکتی ہے۔اور پانچ فیصدی آمد رکھی جائے تب بھی اڑھائی کروڑ روپیہ سے یہ آمد پیدا ہو سکتی ہے۔پس جب تک ہماری جماعت دین کی ہر ضرورت کے موقع پر اپنا روپیہ اور اپنی جانیں پیش نہیں کرتی اُس وقت تک اس کو کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کا کام تو ہو جائے گا لیکن ہم دین کی خدمت کا ثواب حاصل کرنے اور اپنے ایمانوں کا ثبوت دینے سے قاصر رہیں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کو سمجھے۔اور دین کے لئے جہاں مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سوال ہو وہاں آگے بڑھ بڑھ کر اپنے اموال پیش کریں۔اور جہاں جانی قربانی کا سوال ہو وہاں آگے بڑھ بڑھ کر اپنی