خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 52

$1945 52 خطبات محمود ساتھ باہر آئے۔مختلف روایتوں میں ان کی مختلف تعدادیں بیان ہوئی ہیں جو تین ساڑھے تین سو تک کی ہیں۔ان میں سے جو مشہور روایت ہے وہ تین سو تیرہ کی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ سے نکل کر تھوڑے فاصلہ پر گئے تو خدا تعالیٰ نے آپ کو قطعی علم دے دیا کہ مقابلہ لشکر سے ہی ہو گا قافلہ سے نہیں ہو گا۔اور یہ علم خدا تعالیٰ نے مدینہ میں اس لئے نہ دیا تاکہ وہ مومنوں کی آزمائش کرے۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان تمام صحابہ کو جمع کیا جو آپ کے ساتھ تھے اور آپ نے فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیے کیونکہ اب مقابلہ قافلہ سے نہیں ہو گا بلکہ دشمن کی فوج سامنے آئے گی۔صحابہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا یہ مشورہ دے رہے تھے کہ یارسول اللہ ! اور کیا کرنا ہے ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے۔لیکن جب ایک شخص مشورہ دے کر بیٹھتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو کیا کرنا چاہیے ؟ جب دوسرا شخص مشورہ دے کر بیٹھتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو کیا کرنا چاہیے ؟ اور جب تیسرا شخص مشورہ دے کر بیٹھتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو ! مجھے مشورہ دو کیا کرنا چاہیے؟ اس پر ایک انصاری اٹھے اور انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مشورہ تو آپ کو دیر سے مل رہا ہے لیکن آپ پھر بھی اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ اے لوگو ! مجھے مشورہ دو میں کیا کروں۔شاید اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ انصار مشورہ دیں۔آپ نے فرمایا ہاں میری یہی مراد ہے، میں آپ سے مشورہ لینا چاہتا ہوں کہ کیا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اس مصلحت کی بناء پر خاموش تھے کہ مکہ والے جن کے ساتھ مقابلہ ہے مہاجرین کے رشتہ دار ہیں ہمیں نہیں بولنا چاہیے شاید مہاجرین کو یہ بات بُری لگے۔اس لئے یہ ان کا حق تھا کہ وہ مشورہ دیتے اور جو بھی وہ مشورہ دیں ہم تو آپ کے ساتھ ہی ہیں۔پھر اس نے کہا یارسول اللہ ! شاید آپ اس معاہدہ کی وجہ سے ہم سے مشورہ پوچھ رہے ہیں جو مکہ کی وادی میں ہم نے آپ سے کیا تھا کہ اگر آپ پر مدینہ میں حملہ ہو گا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور مدینہ سے باہر کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔لیکن یا رسول اللہ ! اُس وقت ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ کیا چیز ہیں اور ابھی آپ کی شان کا ہمیں علم نہیں ہوا تھا اور آپ کا مقام ہم پر نہیں گھلا تھا۔اس کے بعد جب آپ ہمارے اندر تشریف لائے تو پھر ہمیں آپ کے مقام اور