خطبات محمود (جلد 26) — Page 483
$1945 483 خطبات محمود آئے۔مگر اُن سات سو آدمیوں کے آنے پر اس قدر خوشی کا اظہار کیا گیا کہ جس کی کوئی حد نہیں۔حالانکہ آج ہمارے مدرسوں میں ہی اِس سے کئی گنا زائد طالب علم پڑھتے ہیں۔ہمارے ہائی سکول میں سولہ سو طالب علم ہیں۔ہمارے کالج میں ڈیڑھ سو طالب علم ہیں۔ہمارے زنانہ سکول میں پانچ چھ سو یا اس سے زائد لڑکیاں پڑھتی ہیں۔اور ہمارے جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ وغیرہ مدارس میں اڑھائی سو کے قریب طالب علم ہیں۔پھر ان کے علاوہ بھی ہیں جو پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ان سب کو ملا لیا جائے تو تین ہزار کے قریب طالب علم بن جاتے ہیں۔گویا آج یہ حالت ہے کہ قادیان میں صرف تین ہزار ہمارا طالب علم پایا جاتا ہے۔لیکن اس وقت ہمارے جلسہ سالانہ پر سات سو آدمی آئے اور ان سات سو آدمیوں کے آنے کو اس قدر اہم سمجھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب باہر سیر کے لئے گئے تو آپ کی جوتی بار بار لوگوں کے پاؤں لگنے کی وجہ سے گر جاتی تھی۔کیونکہ آپ کھلی جوتی پہنتے تھے۔( میں بھی کھلی جوتی ہی پہنا کرتا ہوں) جب بار بار اس طرح ہوا تو آپ نے فرمایا۔اب سیر کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔چنانچہ آپ نے ریتی چھلہ میں بڑ کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر ایک تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نبی دنیا میں اپنی جماعت قائم کرنے کے لئے آتا ہے۔چونکہ ہماری جماعت قائم ہو چکی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جس کام کے لئے میں آیا تھاوہ شاید ختم ہو گیا ہے۔حالانکہ اس وقت سات سو آدمی تھے۔لیکن اب اگر عورتوں کو شامل کر لیا جائے تو صرف ہمارے جمعہ میں آنے والے لوگ ہی پانچ ہزار سے زائد ہو جاتے ہیں۔غرض جماعت نے آہستہ آہستہ ترقی کی اور ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔ہر قدم پر لوگوں نے سمجھا کہ اگر ہم اتنے ہو گئے تو بڑی بات ہے لیکن یہ ہماری نادانی ہے۔کیونکہ ہم نے جو کچھ سمجھا غلط سمجھا۔اصل بات تو وہ ہے جو خدا نے سمجھی اور خدا نے آسمان پر یہ نہیں سمجھا تھا کہ سات سو آدمی اس جماعت میں داخل ہو جائیں گے خدا تعالیٰ نے آسمان پر یہ نہیں سمجھا تھا کہ تین ہزار طالب علم قادیان میں پڑھنے لگ جائیں گے۔خدا تعالیٰ نے اپنے عرش پر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ پانچ چھ ہزار آدمی جمعہ سننے والے قادیان میں پیدا ہو جائیں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر بیٹھے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دنیا میں احمدیت ہی احمدیت قائم کر دی جائے گی۔اور دوسری قومیں