خطبات محمود (جلد 26) — Page 440
$1945 440 خطبات محمود بھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُن کے سامنے کوئی نہ کوئی نمونہ ہو تا ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ فلاں کے لڑکے نے بی اے پاس کیا اور وہ اچھے عہدہ پر ہے تو انہیں بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔اگر اس طرح ہر ایک گاؤں میں ایک دو نوجوانوں کو بی اے تک تعلیم دلوا دی جائے تو باقی لوگوں کو خود بخود شوق پیدا ہو جائے گا۔پس عہدیداروں کا فرض ہے کہ وہ اس سکیم کی طرف پورے طور پر متوجہ ہوں اور بچوں کے والدین کو مجبور کریں کہ وہ اپنے بچوں کو کم از کم میٹرک تک اور اگر استطاعت رکھتے ہوں تو بی اے تک تعلیم دلوائیں۔مجبور سے میر امطلب یہ ہے کہ انہیں میر اخطبہ پڑھ کر سنایا جائے اور اعلیٰ تعلیم کے فوائد اُن کے سامنے بار بار بیان کئے جائیں اور طالب علموں کی پڑھائی کی نگرانی کی جائے کہ وہ تعلیم میں کیسے ہیں۔ان کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے کہ وہ تعلیم میں پورے طور پر دلچسپی لیں۔اور جو انسپکٹر دورہ پر جائیں اُن کا فرض ہے کہ وہ احمدی لڑکوں کو تعلیم کے فوائد بتائیں اور اُن کے والدین کو نصیحت کریں کہ وہ ان کی پڑھائی مکمل کرنے کی کوشش کریں۔اگر سو میں سے دس طالب علم بھی اچھے نکل آئیں تو بھی جماعت کو تعلیمی لحاظ سے بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔میں نے اس سکیم کو جماعت کے سامنے رکھ دیا ہے اگر جماعت اس پر عمل کرے گی تو دینی اور دنیوی طور پر تمام جماعتوں پر خدا کے فضل سے فوقیت حاصل کرے گی۔میرا ارادہ ہے کہ پہلے پنجاب اور اسکے ساتھ ملتے ہوئے یو پی اور صوبہ سرحد کے علاقوں میں اور پھر آہستہ آہستہ دوسرے تمام صوبوں میں بھی منظم طور پر کوشش کی جائے۔پس جماعت اگر چاہتی ہے کہ وہ بہت جلد دنیا پر چھا جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو اپنے اندر عام کرے۔افریقہ میں ہماری کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں ہمارے سکول قائم ہیں۔اور زیادہ تر وہاں کے لوگ سکولوں کی وجہ سے احمدیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔لیکن افریقہ میں خرچ کم ہے اس لئے وہاں سکول قائم کرنے کے لئے زیادہ روپیہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔اس سکیم کو پہلے میں نے مصلحتا بیان نہیں کیا تھا کیونکہ ہمارا کالج کوئی نہ تھا۔لیکن اب جبکہ میں نے یہ سکیم بیان کر دی ہے جماعت کو چاہیے کہ پوری توجہ سے اس پر عمل کرے اور دفتر تعلیم کو چاہیے میری ہدایت کے مطابق جلدی انسپکٹر مقرر کرے۔اگر ہم