خطبات محمود (جلد 26) — Page 406
$1945 406 خطبات محمود کوئی تاجر کامیاب تجارت نہیں کر سکتا جب تک اُس کا جتھا مضبوط نہ ہو۔دوسروں کے بینکوں کو توڑنے کے لئے بینک آپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور تاجر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مقابل کے تاجروں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر مقابل والے کا جتھا مضبوط ہو تو وہ بچ جاتا ہے۔اور اگر وہ جتھے والا نہ ہو تو مقابل کے تاجر اُس کا مقابلہ کر کے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔آج احمدی تاجر انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ دو چار سو تاجر ہیں۔اس کے مقابلہ پر مسلمانوں کے تاجر پچاس ساٹھ ہزار ہوں گے مگر اس کے باوجود وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں نہیں پنپ سکتے کیونکہ ہندوؤں کے مقابلہ میں ان کا جتھا کمزور ہے۔جہاں کہیں منڈی کا سوال آتا ہے یا ایجنسی کا سوال آتا ہے ہندو ہندوؤں کو دے دیتے ہیں اور مسلمان منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔کوئی پچیس سال کی بات ہے فوج میں سے ایک احمدی کو احمدیت کی وجہ سے نکالا گیا۔میں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بھیجا کہ وہ اس بارہ میں افسرانِ بالا سے ملیں۔وہ کمانڈر انچیف سے ملے تو انہوں نے جواب دیا آپ جو کچھ کہتے ہیں صحیح ہے لیکن میں بھی مجبور ہوں۔ہمیں تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔کیا آپ تین لاکھ نوجوان دے سکتے ہیں؟ اگر نہیں دے سکتے تو احمدی اگرچہ مظلوم ہے ہمیں احمدی کو ہی نکالنا پڑے گا کیونکہ کثرت کو ہم ناراض نہیں کر سکتے۔چودھری صاحب خفا ہو کر آگئے اور مجھے یہ بات بتلائی۔میں نے کہا جو کچھ انہوں نے کہا ہے ٹھیک ہے۔حکومت مجبور ہے میں اس صورتِ حالات کو تسلیم کرتا ہوں۔یہی حالت تجارت میں بھی ہے۔اگر کسی بیرونی ملک میں بعض درد مند مسلمان، مسلمان اخباروں میں اشتہار دلانے کی تحریک کرتے ہیں اور وہاں کے تاجروں سے کہتے ہیں کیوں تم مسلمان اخباروں میں اشتہار نہیں دیتے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اخباروں کو پڑھنے والے کوئی تاجر بھی ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں اشتہار دے کر کیا فائدہ؟ ہند و اگر چہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، ہمارے مال کے بائیکاٹ کی تلقین کرتے ہیں مگر ہر ہند و اخبار کے پڑھنے والے سو دو سو تاجر ہوتے ہیں۔اگر سو بائیکاٹ کے دلدادہ ہوں گے تو سو ایسے بھی ہوں گے جو غیر ملکی مال لینے والے ہوں گے۔اس طرح جب کسی جگہ پر ایجنسی لینی ہو تو جو بڑے بڑے کارخانے والے ہیں