خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 405

$1945 405 خطبات محمود اس کے مطابق میں ہزار آدمیوں کی گنجائش ہے اور یہ ابتدا ہے۔قادیان میں دیکھو اس وقت پانچ سو آدمی تجارت کر رہے ہیں۔کئی کھلی جگہوں پر اور کئی گھروں پر۔تو ہمارے لئے یہ ایک بہت کامیاب راستہ ہے جس سے دین و دنیا دونوں کی بہتری کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔یہ بات بھی یادر کھنی چاہیے کہ ہم اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے ان دو ہزار جگہوں پر مبلغین نہیں رکھ سکتے۔ان ساری جگہوں پر یہ بھی نہیں کہ ہمارے احمدی موجود ہوں۔دو ہزار شہروں میں سے ڈیڑھ دو سو شہر ایسے ملیں گے جہاں ہمارے احمدی ہیں باقی اٹھارہ سو شہر ایسے ہیں جہاں کوئی احمدی نہیں۔کچھ اس سے چھوٹے چھوٹے قصبے بھی تجارت کے قابل ہیں۔یہ سات آٹھ ہزار کے قریب ہو جاتے ہیں۔ان سات آٹھ ہزار قصبوں میں سے ڈھائی تین سو قصبے ایسے ہیں جہاں احمدی جماعتیں قائم ہیں۔باقی پونے سات ہزار یا پونے آٹھ ہزار جگہیں ایسی ہیں جہاں کوئی احمدی نہیں۔اگر ہم پونے سات یا پونے آٹھ ہزار آدمی تبلیغ کے لئے ان جگہوں پر بھیجیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر پونے سات یا پونے آٹھ لاکھ روپیہ ماہوار خرچ ہو گا اور تقریباً ایک کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہو گا۔یہ تو ایک صورت ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ہمیں محنت کرنے والے اور قربانی کرنے والے نوجوان مل جاویں جو ان جگہوں پر جاکر سلسلہ کی ہدایت کے مطابق تجارت کریں اور اس کام میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی دس پندرہ لاکھ روپیہ ماہوار آمدنی ہو گی۔اور دس پندرہ لاکھ سالانہ کا چندہ ان سے آئے گا۔اب دیکھو کہ ایک صورت میں تو ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور دوسری صورت میں پندرہ لاکھ روپیہ آمد ہوتی ہے۔اور یہ لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اسی میں ہو گی کہ تبلیغ بھی ہو اور بجائے اس کے کہ خزانہ خالی ہو خزانہ بھرا رہے۔اس کے لئے کئی لائنیں مرکز نے سوچی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے تاجروں کی ایک حد تک ہم بھی مدد کر سکتے ہیں۔اگر ہمارے پرانے تاجر بھی اس بات کی اہمیت کو سمجھیں کہ جو نئے تاجر ہیں ہم نے اُن کو کام سکھلانا ہے تو اس سے ان کا اپنا فائدہ بھی ہو گا۔احمدی تاجروں کے بڑھنے سے منڈی میں ان کی جڑیں مضبوط ہو جائیں گی۔تجارت کو رقابت ہی تباہ کرتی ہے۔جس کا جتھا مضبوط ہو وہ بچ جاتا ہے اور جو کمزور ہو وہ اس رقابت میں تباہ ہو جاتا ہے۔جس طرح زمینداروں میں ہوتا ہے۔