خطبات محمود (جلد 26) — Page 404
+1945 404 خطبات محمود پانچ ہزار مبلغین کا ملنا بڑا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں پانچ ہزار سپاہی ملے تھے۔پہلی تشریح تو پانچ ہزار آدمیوں کی تحریک جدید میں شامل ہونے والوں کی ہم نے کی۔وہ چندہ دیتے ہیں اور دیتے چلے جائیں گے۔مگر یہ ایک شق بھی ہے کہ پانچ ہزار احمدی اس طرح دنیوی کام کریں کہ دین کے مبلغ بھی ہوں۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اندر کئی شقیں رکھتی ہیں۔جہاں پانچ ہزار سے مراد یہ ہو سکتی تھی کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دے اور نسلاً بعد نسل پانچ ہزار آدمی متواتر چندہ دیتا چلا جائے اور قیامت تک یہ سلسلہ چلا جائے۔وہاں اس کے اور کئی معنے بھی ہیں۔اس وقت سینکڑوں آدمیوں نے فوج میں سے چندہ لکھوایا ہے۔جب وہ واپس آئیں گے تو ان کا چندہ بھی بند ہو جائے گا۔جس کو فوج میں پانچ سوروپے ملتے تھے وہ پانچ سو چندہ دیتا تھا مگر نوکری چھوڑنے کے ساتھ پانچ کو اڑا کر اُس کا چندہ صفر رہ جائے گا۔جس کو دو سو تنخواہ ملتی تھی جب وہ نوکری سے علیحدہ ہو جائے گا تو نوکری کی علیحدگی کے ساتھ دو کو اُڑا کر اُس کا چندہ بھی صفر رہ جائے گا۔اور ان کی بے کاری کے ساتھ ہی تحریک جدید کے تسلسل کا جو خیال تھا ٹوٹ جائے گا۔یہ اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دینے والے نئے پیدا ہوں۔اور یہ نیا چندہ دینے والے اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں جب پانچ ہزار آدمیوں کے لئے نیا کام مل جائے۔پس یہ جو بے کار ہو کر آنے والے آدمی ہیں میں اُن کو نصیحت کرتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ گھر میں رہ کر فاقہ کریں وہ تجارت کی کوشش کریں۔ایسی تجارت کی جو دین اسلام کے لئے بھی مفید ہو۔ہندوستان میں پانچ سو ایسے شہر ہیں جہاں تجارت کی منڈیاں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔کیونکہ ہر ایک ضلع میں آٹھ دس یا پندرہ ایسے قصبے ہوتے ہیں جن میں دس پندرہ ہزار سے زیادہ آبادی ہوتی ہے۔اس طرح پر اگر اُن کو بھی ملا لیا جائے تو یہ بجائے پانچ سو کے دو تین ہزار کے قریب قصبے نکل آئیں گے۔ان میں سے بعض شہر ایسے ہیں جیسے کلکتہ ہے، مدراس ہے، کراچی ہے، دہلی ہے، پشاور ہے، الہ آباد ہے، حیدرآباد ہے، ٹراو نکور ہے، ڈھاکہ ہے جہاں پر بیک وقت تیں تیں، چالیس چالیس آدمیوں سے ہم تجارت کی ابتدا کر سکتے ہیں۔بعض ایسی جگہیں ہیں جہاں صرف ایک آدمی کی شروع میں گنجائش ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ان دو ہزار شہروں کی فی شہر اوسط دس آدمی بھی لگائی جائے تو