خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 381

$1945 381 خطبات محمود سرے سے انکار کیا جا رہا ہے۔اور بجائے لا اِلهَ اِلَّا الله ثابت کرنے کے اور بجائے اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کو ثابت کرنے کے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے کہ وہ موجود ہے۔کیونکہ دنیا اُس کی ذات کا انکار کر رہی ہے اور ایسے حالات میں اُس کی صفات کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا کہ اس میں کون کونسی طاقت ہے اور کونسی نہیں۔اب صرف خدا تعالیٰ کو تخت پر بٹھانے کا سوال نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی روحانی پیدائش کا سوال ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ایسے طور پر ظاہر ہو کہ دنیا اس کا انکار نہ کر سکے۔اس وقت سوال یہ نہیں کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله کو کس طرح دنیا میں قائم کیا جائے بلکہ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو کس طرح منوایا جائے۔جیسی ظلمت اور جیسی ضلالت ہمارے زمانہ میں ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار ہمارے زمانہ میں کیا جا رہا ہے اس کی نظیر پہلے وقتوں میں نہیں ملتی۔ہماری جماعت کو بھی اس کے مقابل پر ایسی شاندار قربانیاں کرنی چاہئیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل مل کر اعلیٰ نتائج پیدا کرے اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں اور اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا سے منوادیں اور اس کی حکومت دنیا پر قائم کر دیں۔گو اللہ تعالیٰ کی حکومت زمین پر بھی ویسی ہی ہے جیسی آسمان پر ہے اور تمام دنیا اس کے قانونِ قدرت کے ماتحت چل رہی ہے۔اگر دہر یہ یا دوسرے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید یا اس کی عبادت نہیں کرتے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔مگر ایک لحاظ سے اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت لوگوں کے دلوں میں قائم ہو جائے۔جب بادشاہوں کو تخت پر بٹھانے کی رسم ادا کی جاتی ہے تو ملک کے بڑے بڑے آدمی بلائے جاتے ہیں۔انگلستان کے بادشاہ کو آرچ بشپ آف کنٹر بری ( Archbishop of Canterbury) تخت پر بٹھاتا ہے۔اور اگر اسلامی ممالک میں یہ رسم ادا کرنی ہو تو شیخ الاسلام اس رسم کو پورا کرتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تخت نشینی کی رسم میں انہی کو شامل کیا جائے گا جو اُس کے حضور معزز ہوں گے اور جو اس قابل ہوں گے کہ وہ اس رسم میں شامل ہوں۔جنہوں نے اس کی تخت نشینی کے دن کے لئے ہر چیز قربان کر دی اور اس کی راہ میں دیوانہ وار تکالیف کو برداشت کرتے چلے گئے یہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی تخت نشینی کے موقع پر