خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 355

$1945 355 خطبات محمود الله اكبر اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کی اپنے نفسوں کے مقابل میں، اپنی حاجات کے مقابل میں ، اپنی اولادوں کے مقابل میں، اپنے مالوں کے مقابل میں، کیا نسبت قائم کرتے ہیں۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اپنے مالوں پر ترجیح دیتے ہیں، اپنی اولادوں پر ترجیح دیتے ہیں، تو ہم یقیناً خوش قسمت ہیں۔لیکن اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے نفسوں پر ، اپنے مالوں پر، اپنی اولادوں پر ترجیح نہیں دیتے تو ہمارے جیسا بد قسمت روئے زمین پر کوئی نہیں ہو سکتا۔اور ہمیں اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر 1/3 حصہ سے زیادہ وصیت کرنے سے منع فرمایا ہے۔گویا 7/10 حصہ ہمارے لئے رکھا اور 3/10 حصہ اپنے لئے۔مگر کتنے ہیں جو اِس حصہ کو بھی دینے کے لئے تیار ہیں۔ہماری جماعت وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور ایک حد تک وہ اس دعویٰ کے مطابق عمل بھی کرتی ہے۔لیکن ہماری جماعت میں سے بھی تھوڑے ہیں جو 3/10 حصہ کی قربانی کرتے ہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ مشکل سے دس فیصدی ہوں گے۔باقی لوگوں میں سے کچھ حصہ ایسا ہے جو 1/10 اور 3/10 کے درمیان چکر لگاتا رہتا ہے۔اور کچھ حصہ ایسا ہے جو 1/10 کی بھی پورے طور پر قربانی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اپنا حصہ تھوڑا رکھا ہے۔لیکن اس تھوڑے حصے کو بھی ادا کرنے میں بعض لوگ کو تاہی سے کام لیتے ہیں۔پھر اوپر کا حکم تو وصیت کے متعلق ہے۔اپنی زندگی میں تو انسان اپنی جائیداد ساری کی ساری بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے سکتا ہے۔جیسے حضرت ابو بکر نے کیا۔مگر لوگ بجائے اس کے کہ 10 / 3 حصہ کو 4/10 حصہ یا 5/10 حصہ کی طرف لے جائیں 1/10 حصہ کی قربانی کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔اور اپنے اموال کو اپنے آرام و آسائش پر یا اپنی اولادوں یا دوسری ادنی ادنی ضروریات پر خرچ کر دیتے ہیں۔اور خد اتعالیٰ کے دین کے لئے ان کے مالوں میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔جب ہماری جماعت میں سے بعض افراد کا یہ حال ہے جو دن رات اللہ تعالیٰ کے نشانات کا مشاہدہ کرتی ہے کہ وہ اپنے مالوں میں سے 1/10 حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں تو باقی قو میں جو اللہ تعالیٰ سے بالکل بیگانہ ہیں ان کے