خطبات محمود (جلد 26) — Page 333
+1945 333 خطبات حمود محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے اور اُس وقت دنیا کسی مصلح کی محتاج ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بندے پر الہام نازل کیا جاتا ہے اور وہ الہام دنیا میں ایک نئی روحانی پیدائش کے لئے بطور استقرار حمل کے ہوتا ہے۔اور اپنی جگہ پر یہ مرحلہ ایسا ضروری ہوتا ہے کہ اگر ہم اس کو اہم ترین مرحلہ قرار دیں تو یہ بالکل صحیح ہو گا کیونکہ تمام آئندہ ہونے والے واقعات اور حالات اُسی پر منتج ہوتے ہیں۔خد اتعالیٰ کا وہ الہام جو بندے پر پہلی دفعہ نازل ہوتا ہے کہ میں تجھے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے کھڑا کرتا ہوں بطور استقرار حمل کے ہوتا ہے۔مگر اس الہام کے ساتھ ہی دنیا میں کوئی فوری تغیر پیدا نہیں ہوتا۔ہاں اس الہام کے بعد کامیابی کے رستے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں۔جس طرح بچے کی پیدائش میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نطفہ سے خون کا لوتھڑا بنتا ہے پھر اس میں زیادہ گرانی پیدا ہوتی ہے اور وہ گوشت کی شکل اختیار کرتا ہے۔پھر اس کی ہڈیاں بنتی ہیں اور پھر اس پر چھڑا چڑھتا ہے۔پھر آنکھ ، کان اور ناک وغیرہ اعضاء نمایاں شکل اختیار کرتے ہیں۔پھر بچے کو غذا لینے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ ناف کے ذریعہ اس کو حاصل کرتا ہے۔یہی مختلف حالات ہوتے ہیں جن میں سے قومیں گزرتی ہیں۔اور یہی مختلف مراحل ہیں جن میں سے ہماری جماعت کو بھی گزرنا ہے۔بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جماعتیں یکساں طور پر ایک ہی حالت میں چلتی چلی جاتی ہیں۔ان کا یہ خیال حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔کیونکہ جماعتیں یکساں طور پر کبھی ایک حالت پر نہیں رہتیں بلکہ ان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔جیسے بچے کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچہ ابتدا سے اسی طرح بنا بنایا آتا ہے اور بڑھنا شروع کر دیتا ہے بلکہ اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ علم حیات کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ماں کے رحم میں بچہ اتنی شکلیں بدلتا ہے کہ دنیا کے تمام جانوروں کی شکلیں اختیار کرتا ہوا گزرتا ہے۔ایک وقت اسے خوردبین سے دیکھا گیا تو اس کی شکل مچھلی کی سی تھی۔دوسرے وقت اُسے خوردبین سے دیکھا گیا تو اس کی شکل خرگوش کی سی تھی۔پھر کسی اور وقت اسے خوردبین سے دیکھا گیا تو اُس کی شکل بندر کی سی تھی۔غرض ارتقاء کے مختلف دور جنین پر وارد ہوتے ہیں۔اور وہ یکے بعد دیگرے مختلف جانوروں کی شکلوں میں سے گزرتا ہوا