خطبات محمود (جلد 26) — Page 334
+1945 334 خطبات محمود آخر انسانی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح قوموں کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ یکساں طور پر چلتی چلی جاتی ہیں ایک بے معنی خیال ہے۔ان کی شکلیں بدلتی چلی جاتی ہیں۔اور مختلف حالتوں میں گزرتی ہوئی وہ اپنے کمال کو پہنچتی ہیں۔اور آخر کار وہ وقت آجاتا ہے جو اس قوم کی پیدائش کے لئے مقدر ہوتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کی پیدائش کا زمانہ وہ تھا جب جنگ بدر ہوئی اور مسلمانوں کے مقابلہ میں عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔گویا بدر کی جنگ کے موقع پر وہ جماعتی حیثیت سے دنیا کے سامنے آگئے اور لوگ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ اب مسلمانوں کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں۔بہر حال جماعتیں پہلے اسی رنگ میں ترقی کرتی ہیں جس رنگ میں جنین رحم مادر میں ترقی کرتا ہے۔اور پھر جس طرح ایک دن جنین کی پیدائش عمل میں آجاتی ہے اسی طرح قوموں پر ایک دن ایسا آتا ہے جب تدریجی رنگ میں ارتقائی مقامات کو طے کرتے ہوئے اُن کی پیدائش معرض وجود میں آجاتی ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ ہماری جماعت ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچی جس کو پیدائش کا مقام کہا جا سکے یعنی دنیا ہمارے وجود کو تسلیم کرلے۔اور تو اور ابھی پنجاب میں بھی ہمارے وجود کو پورے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔گو ایک حد تک پنجاب میں ہمارے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن ایسے طور پر نہیں کہ لوگ عَلَى الإعلان اقرار کر لیں۔ابھی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے اس کا کیا ہے۔اور ہندوستان میں تو ہماری کوئی ایسی نمایاں حیثیت ہی نہیں کہ ہم لوگوں کے سامنے بحیثیت جماعت آسکیں۔ہاں جیسے بعض عجوبہ پسند کسی عجیب چیز کا ذکر اپنی کتاب میں کر دیتے ہیں اسی طرح بعض لوگ ہم کو عجوبہ سمجھتے ہوئے اپنی کتابوں میں ہمارا بھی ذکر کر دیتے ہیں۔اور ہندوستان سے باہر تو صرف چند ممالک ایسے ہیں جن میں ہلکے طور پر ہمارے وجود کو تسلیم کیا جاتا ہے ورنہ باقی دنیا ہماری کوئی اہمیت تسلیم نہیں کرتی۔جس طرح جنگل میں سے گزرنے والے شخص کی نظر بعض دفعہ جھاڑیوں اور بوٹیوں پر بھی پڑ جاتی ہے لیکن وہ اُن کے وجود پر اتنی توجہ نہیں دیتا جتنی توجہ وہ باغ میں اُگے ہوئے مختلف پھولوں پر دیتا ہے۔باغ میں جانے والا شخص یاسمین کے پودے کے پاس جاتا اُس سے لطف اٹھاتا اور اس