خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 252

خطبات محمود 252 $1945 ہمارے لئے اس زمانہ میں پریس کی بہت دقتیں ہیں بڑے شہروں میں تو بہت سے پر لیس ہوتے ہیں اگر ایک خراب ہو جائے تو دوسرے پر یس میں کتاب چھپ سکتی ہے۔دوسرا خراب ہو جائے تو تیسرے پر میں میں کتاب چھپ سکتی ہے۔لیکن ہمارے پاس سامان بہت کم ہیں۔صرف ایک دو پریس ہیں اور وہ بھی اس قابل نہیں کہ سب کا سب تفسیر کا کام کر سکیں۔جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے آخری پارہ دو حصوں میں شائع ہو گا۔کیونکہ مضمون کے متعلق اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ غالباً ہزار صفحہ سے زیادہ ہو جائے گا۔اس صورت میں اس کا ایک جلد میں شائع کرنا مناسب نہیں تھا۔کیونکہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد جو شائع ہو چکی ہے اور جو ایک ہزار صفحہ کی کتاب ہے۔وہ بھی بہت بھاری سمجھی جاتی ہے۔اس کے علاوہ دوسری دقت ہمیں یہ پیش آئی کہ آجکل کاغذ نہیں ملتا۔اس لئے موجودہ جلد کے لئے جو کاغذ مہیا کیا گیا ہے اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ بھاری اور موٹا ہے۔اس کی وجہ سے خطرہ تھا کہ یہ جلد ایسی بھاری ہو جائے گی کہ اس کا استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔چنانچہ مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ جلد بندی ہو کر اگست میں یہ کتاب لوگوں تک پہنچ جائے گی یا نہیں۔بہر حال یہ امید کی جاتی ہے اور ہدایتیں یہی ہیں کہ جولائی میں یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے فضل سے شائع ہو جائے۔جو میرے کام کا حصہ ہے وہ اکثر ختم ہو چکا ہے باقی کام آٹھ دس دن میں انشاء اللہ ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد میرا ارادہ ہے کہ اسکے دوسرے حصہ کی بھی جلد سے جلد تکمیل کرلی جائے تاکہ اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو حسب وعدہ دوسری جلد بھی جلسہ سالانہ سے قبل شائع ہو سکے۔اس وقت دوسری جلد کے مضمون کا بھی ایک حصہ تیار ہے اور ایک حصہ ابھی تیار ہونے والا ہے جس کو ہمارے زود نویس لکھ رہے ہیں۔اور غالباً پندرہ بیس دن تک وہ اس کام سے فارغ ہو جائیں گے۔اس حصہ کو بھی درست کر کے میں انشاء اللہ کاتبوں کو دے دوں گا تاکہ دوسری جلد کی کتابت بھی جلد سے جلد شروع ہو جائے۔صرف ایک ربع کا مضمون ابھی باقی ہے جس کے متعلق میرا منشاء یہ ہے کہ اس دفعہ ڈلہوزی میں درس دے کر وہ مضمون بھی لکھوا دوں۔ستیارتھ پرکاش کے جواب کا بھی بہت سا کام ہو چکا ہے اور اب مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں اس پر نظر ثانی کر کے مضمون کو انشاء اللہ درست کیا جائے گا۔صرف ایک باب باقی ہے جو