خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 253

+1945 253 خطبات محمود انشاء اللہ اگلے ایک دو ماہ کے اندر اندر لکھنے کی کوشش کی جائے گی۔اس دوران میں میرا ایک لیکچر جو اسلام کے اقتصادی نظام پر لاہور میں ہوا تھا اور جس میں اسلامی اقتصادیات کا سوویٹ اقتصادی نظام کے ساتھ مقابلہ کر کے اسلامی نظام اقتصاد کی فوقیت کو ثابت کیا گیا تھا اس پر نظر ثانی کر کے اور آخری حصہ جو لیکچر میں پورے طور پر بیان نہیں ہو سکا تھا اُس کی مزید تشریح کر کے تحریک جدید والوں کو پانچ چھ دن ہوئے میں اپنی طرف سے مکمل طور پر دے چکا ہوں اور امید ہے کہ جولائی کے مہینہ میں یہ کتاب بھی انشاء اللہ شائع ہو جائے گی۔میں نے دوستوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ کمیونزم اس زمانہ کے اہم ترین فتنوں میں سے ہے۔یہ لوگ بظاہر تو کہتے ہیں کہ مذہب سے ہمارا کوئی ٹکراؤ نہیں لیکن ان کا تمام طور و طریق مذہب سے ٹکراؤ کا ہی ہے۔در حقیقت اس اقتصادی نظام کے ماتحت جس کو سوویٹ سسٹم دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اسلام کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں۔اب چند دن ہوئے روس کے کسی مسلمان امام کی طرف سے ایک اعلان شائع ہوا ہے کہ یہ خبر بالکل غلط ہے کہ اس ملک میں اسلام کو کسی قسم کا ضعف پہنچا ہے۔ہم تو ہر طرح خوش و خرم ہیں لیکن ہمیں مولویوں کے اس قسم کے اعلانات کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہے۔کیونکہ ہندوستان میں روزانہ اس قسم کے اعلان ہوتے رہتے ہیں۔ہمارے ہندوستان کے بعض مولوی ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ گاؤ کشی اسلام میں بھی حرام ہے اور در حقیقت اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔تجارتی لوگوں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں میں وہ علماء بھی ہیں جو سود کی ایسی تعریف کرتے ہیں جس کے ماتحت بنکوں کا سود سود ہی نہیں رہتا بلکہ اس کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔پھر ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ کوئی سیاسی مسئلہ جو لو گوں کی توجہ کو اپنی طرف پھیر رہا ہوتا ہے اُس کے متعلق علماء کی ایک جماعت اعلان کر دیتی ہے کہ خالص اسلام یہی ہے۔کبھی خالص اسلام انگریزوں کی تائید ہوتا ہے اور کبھی خالص اسلام ہندوستان سے ہجرت کرنا ہوتا ہے۔کبھی خالص اسلام کا نگرس کی مخالفت کرنا ہوتا ہے اور کبھی خالص اسلام گاندھی جی کی کامل اتباع ہوتا ہے۔یہ خالص اسلام، اسلام نہیں بلکہ در حقیقت موم کی ناک ہے جسے مولوی اپنی مرضی