خطبات محمود (جلد 26) — Page 243
$1945 243 خطبات حمود پہنچانے والے ثابت ہوں۔اسی سلسلہ میں میں اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نہایت عظیم الشان طور پر پورا ہوا ہے۔غالباً 8 یا 9۔اپریل کی بات ہے میں اُن دنوں لاہور میں تھا کہ میں نے یہ رویا دیکھا اور میں نے لاہور میں ہی جماعت کے کئی دوستوں کو سنا دیا۔اس کے بعد یہاں بھی اپنی مجلس میں میں نے اس رویا کا ذکر کیا۔تین چار سو کا مجمع تھا جس میں میں نے اپنے اس خواب کو بیان کیا۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ جیسے ہمارے ہندوستانی لوگوں پر کام کرتے وقت عام طور پر نحوست اور سستی چھا جاتی ہے یہی نقص ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ دس بارہ دن کے بعد جب میں نے دریافت کیا کہ اُس دن کی خوابوں والی ڈائری میرے پاس کیوں نہیں آئی؟ تو ڈائری نویسی کے محکمہ نے اطلاع دی کہ ہمارے ڈائری نویس صاحب معذرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ دو دن پہلے آپ بیمار تھے اور مسجد میں تشریف نہیں لائے تھے اس لئے اُنہوں نے فرض کر لیا کہ آپ تیسرے دن بھی تشریف نہیں لائیں گے اور اس طرح وہ ڈائری قلمبند ہونے سے رہ گئی۔بہر حال تین چار سو کے مجمع میں میں نے اپنے اس خواب کو بیان کر دیا تھا اور لاہور میں بھی کئی دوستوں کے سامنے اس کا ذکر کیا تھا۔وہ رویا یہ تھا کہ ابو الکلام صاحب آزاد کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ قریب عرصہ میں ان کی ذات کے متعلق ایک عظیم الشان واقعہ ہونے والا ہے۔میں نے اس رویا کی تعبیر یہ بتائی تھی کہ انسانی زندگی میں دو ہی واقعات عظیم الشان ہوتے ہیں یا تو اس کا مر جانا اور یا جس کام میں وہ مشغول ہو اُس میں اُسے کسی عظیم الشان خدمت کا موقع مل جانا۔پس میں نے کہا تھا کہ یا تو اس خواب میں ان کی موت کی طرف اشارہ ہے یا آزاد ہو جانے پر کسی بڑے کام کا موقع پانے کی طرف۔اس رؤیا کے دو ماہ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ لارڈ ویول کی طرف سے ہندوستان کی آزادی کا سوال پیش کیا گیا اور چونکہ خدا نے اس رویا کو پورا کرنا تھا اس لئے اس نے اس رؤیا کو نمایاں طور پر پورا کرنے کے سامان اس طرح پیدا کئے کہ لارڈ ویول نے جن کو دعوت نامے بھیجے اُن میں ابو الکلام صاحب آزاد کا نام نہیں تھا۔گاندھی جی کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے شمولیت سے انکار کر دیا۔اور کہا کہ میں کانگرس کا نمائندہ نہیں۔کانگرس کے صدر مولانا ابو الکلام آزاد