خطبات محمود (جلد 26) — Page 244
+1945 244 خطبات محمود ہیں۔آپ مجھے ایک غیر جانبدار شخص کے طور پر بلا سکتے ہیں مگر کانگرس کی نمائندگی کے لئے آپ ابو الکلام صاحب آزاد کو بلائیں۔چنانچہ اس کے بعد لارڈ ویول کی طرف سے ابو الکلام صاحب آزاد کو بھی دعوت دی گئی۔اب چاہیں تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھالیں اور چاہیں تو اس کو ضائع کر دیں۔بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی سیاسی زندگی میں یہ سب سے اہم موقع ہے جو مولانا ابو الکلام صاحب آزاد کو ملا ہے۔اس وقت ہندوستان کی آزادی کا سوال پیش ہے اگر وہ اس کو رد کر دیں تب بھی یہ ایک بڑا واقعہ ہے جو ان کی طرف منسوب ہو گا۔اور اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کو آزاد کرا دیں تب بھی یہ ایک بڑا واقعہ ہے جو ان کی طرف منسوب ہو گا۔اور اگر وہ اس کو رد کر دیں گے تو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیشہ ان پر لعنت کریں گی کہ ہندوستان کو آزادی حاصل ہونے والی تھی مگر ابوالکلام آزاد کی وجہ سے آزادی نہ ملی۔اور اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے سمجھوتہ کرا دیا تو آئندہ آنے والی نسلیں ان کے لئے دعائیں کریں گی کہ خدا ابو الکلام پر رحمت کرے کہ جب ہندوستان کی آزادی کا سوال آیا تو انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی طرز پر کام کیا کہ ہندوستان کو آزادی نصیب ہو گئی۔ہمارے ہاں مشہور ہے کہ کوئی شخص حج کے لئے گیا تو چشمہ زمزم میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔لوگوں نے یہ دیکھ کر اُسے مارا پیٹا اور کہا کہ نامعقول !تُو نے یہ کیا حرکت کی ہے ؟اس نے جواب دیا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ کوئی ایسا کام کروں جس سے میری شہرت ہو جائے۔جو بھی لیاقت کا کام ہوتا میں دیکھتا کہ ہزاروں آدمی مجھ سے زیادہ لائق ہیں اور میں ان کے مقابلہ میں کوئی شہرت حاصل نہیں کر سکتا۔آخر میں یہاں حج کرنے کے لئے آیا تو مجھے خیال آیا یہ کام آج تک کسی نے نہیں کیا ہو گا اگر میں ایسا کروں تو میری دنیا میں خوب شہرت ہو جائے گی۔تو بڑے کام بُرے بھی ہوتے ہیں اور اچھے بھی۔بہر حال یہ ایک ایسا موقع ابوالکلام صاحب کو ملا ہے کہ اگر وہ اس کو رد کر دیں تب بھی اتنابُر اکام اور کسی نے نہیں کیا ہو گا اور اگر وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اس تحریک کو قبول کر لیں تب بھی اتنا اچھا کام پچھلی کئی صدیوں میں کسی نے نہیں کیا ہو گا۔پس وہ رو یا اِس صورت