خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 224

$1945 224 خطبات محمود اور مٹ جائیں۔کیونکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہوتی ہے۔سلطان حید ر الدین ٹیپو ہندوستان کے بادشاہوں میں سے ایک مشہور بادشاہ گزرے ہیں۔جس وقت انگریزوں سے ان کی جنگ ہوئی اور اس جنگ میں آخری موقع پر انہیں شکست ہوئی تو ان کے متعلق ایک عجیب واقعہ تاریخوں میں آتا ہے جو انسان کے دل پر اثر ڈالنے والا ہے اور انسان کی شرافت کے معیار کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔جس وقت بعض غداروں نے انگریزوں سے روپیہ لے کر قلعہ کے بعض دروازے کھول دیئے اُس وقت سلطان حیدر الدین ایک خندق میں کھڑے ہوئے اپنی فوج کی کمان کر رہے تھے۔عین اُس وقت جبکہ وہ اپنی فوج کو حملہ کے لئے تیار کر رہے تھے ایک جرنیل دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے کہا بادشاہ سلامت! دروازہ کسی غدار نے کھول دیا ہے اور انگریزی فوج قلعہ میں داخل ہو گئی ہے اور عنقریب یہاں پہنچنے والی ہے۔آپ بھاگ چلیں تا آپ ان کے ہاتھ نہ پڑ جائیں۔اُس وقت سلطان حید ر الدین نے جو فقرہ کہاوہ ہر شریف آدمی کے لئے مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔سلطان حیدر الدین نے کہا تم مجھے بھاگنے کی تعلیم دیتے ہو! تم چاہتے ہو کہ میں چُھپ کر اپنی جان بچالوں لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شیر کی ایک گھنٹے کی زندگی لومڑی کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔میں شیروں کی طرح لڑوں گا لومڑیوں کی طرح نہیں بھاگوں گا۔وہ اُسی جگہ مارا گیا اور اس شدت کے ساتھ لڑتا ہوا کہ فصیل کی مختلف جگہوں پر اُس کی لاش کے ٹکڑے پڑے ہوئے ملے۔تو ہر شریف انسان کو ذلت اور ناکامی کی زندگی سے موت ہزار درجے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ایک مسلمان کہلانے والا اگر احمدی نہیں تب بھی ہر گز وہ اپنی سابق عزت و عظمت اور شوکت کو دیکھتے ہوئے اس قربانی کے لئے تیار نہیں جو قوم کو نئی زندگی بخشنے والی ہو تو یقیناً وہ نہایت ہی بے حیا اور نہایت ہی بے شرم انسان ہے۔اور اس کی زندگی سے اس کی موت ہزار درجے بہتر ہے۔ہمیں غور کرنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ سے اسلام نے وہ شوکت حاصل کی تھی کہ یہ بڑی بڑی حکومتیں اور طاقتیں جو آج نظر آتی ہیں غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی رہتی تھیں۔لیکن آج مسلمانوں کی اولاد یورپین لوگوں کی جوتیوں کی مار کھانے پر بھی اُف نہیں کر سکتی اور کوئی