خطبات محمود (جلد 26) — Page 225
+1945 225 خطبات حمود احتجاج نہیں کر سکتی۔اس حالت کو دیکھنے کے بعد اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں نہ آئے ہوتے ، اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نئی امیدیں اور نئی ترقی کی راہیں نہ دکھلا گئے ہوتے تب بھی میں سمجھتا ہوں ایک غیرت مند انسان جب تک ان حالات کو بدل نہ لیتا ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہ کر سکتا۔مگر اب تو ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ایک طرف ہمارے اسلاف کے کارناموں کے متعلق ہماری غیرت مطالبہ کرتی ہے اور دوسری طرف ہمارے خدا کی آواز ہم سے مطالبہ کرتی ہے۔گویا دو رسیاں ہیں جو ہمیں آگے کی طرف کھینچ رہی ہیں۔ہمارے اسلاف بھی پکارتے ہیں کہ کوئی ہماری ذلت اور بد نامی کے دھبے دھوئے اور ہمارا خدا بھی بلاتا ہے کہ آؤ اور دین کی خدمت کر کے انعام پاؤ۔اگر ان کشتوں کے باوجود ہمارے اندر قربانی کی روح پیدا نہیں ہوتی، اگر ان دو کشتوں کے باوجود ہمارے قدم آگے نہیں اٹھتے ، اگر ان دو کشتوں کے باوجود ہم اپنی موت کو شیریں خیال نہیں کرتے اور اپنی موت سب سے میٹھا پھل نہیں سمجھتے تو یقیناً ہم اس دنیا میں اور اگلے جہان میں رہنے کے قابل نہیں اور ذلت ورسوائی ہی ہماری حقیقی جزا کہلا سکتی ہے۔پس چاہیے کہ جماعت اپنی حالت پر غور کرے اور اپنی کو تاہیوں کو دور کرنے کا فیصلہ کرے۔اب زمانہ خاموشی کا نہیں اب زمانہ ٹھہرنے کا نہیں۔جو شخص کھڑا ہو گا وہ مارا جائے گا اور تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔یہ زمانہ ایسا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو پل صراط پر چلنا پڑے گا۔ان کے دائیں بھی جہنم ہو گا اور ان کے بائیں بھی جہنم ہو گا۔وہ ذرا سا ادھر اُدھر ہوں گے تو تباہ ہو جائیں گے 1 یہی ہماری حالت ہے۔اگر ہم اپنے قدموں کو روک کر کھڑے ہوں گے تو اگر اپنے دائیں طرف گریں گے تو جہنم ہو گا بائیں طرف گریں گے تو جہنم ہو گا۔ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہی سیدھا راستہ ہے کہ ہم آفات کی پروا نہ کرتے ہوئے سیدھے چلے جائیں اور ہمارے سامنے ہر وقت ہماری منزلِ مقصود ہو۔اگر ہم منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں تو وہاں ہمارا سب سے بڑا انعام اللہ وہاں کھڑا ہو گا۔اور اگر ہم ٹھہرتے ہیں اور گرتے ہیں تو دائیں طرف بھی شیطان کی گود میں گرتے ہیں اور بائیں طرف بھی شیطان کی گود میں گرتے ہیں۔