خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 159

خطبات حمود 159 $1945 مضمون تو ”اسلام کا اقتصادی نظام بہ نظر کمیونزم “ تھا۔مگر دوسرا لیکچر کمیونزم اور مذہب“ کے موضوع پر دینے کا ہے۔اس کے نوٹ لکھ لئے گئے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو قریب عرصہ میں ہی یعنی دو تین ماہ تک لاہور میں یہ دوسرا لیکچر بھی ہو گا۔پہلا لیکچر اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور کامیاب ہوا ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ میں اسے سمجھنے اور یاد کرنے کا خاص جوش اور رغبت پیدا ہو گئی۔بیبیوں تعلیم یافتہ اصحاب نے بہ اصرار کہا کہ یہ لیکچر بہت جلد شائع ہونا چاہیے۔اسے بہت سے اعلیٰ سرکاری حکام، پروفیسر ان، وکلاء، بیر سٹر ان اور رؤساء نے بڑے شوق سے سنا اور اپنے اپنے حلقوں میں اسے پھیلایا۔یہ جو دیکھا کہ یہ خبر انقلاب“ میں شائع ہوئی ہے اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ انشاء اللہ یہ لیکچر خیالات میں انقلاب پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔(ج) تیسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے نئے نئے راستے خود بخود کھل رہے ہیں۔مثلاً ان دو ماہ میں سلسلہ کی تبلیغ اتنی او پر پہنچ گئی ہے کہ پچھلے سارے سال میں جتنے احمدی ہوئے تھے اس سال جنوری فروری صرف دو مہینوں میں اُس کے نصف سے زیادہ ہو چکے ہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی حالت قائم رہے تو پچھلے سال کی نسبت چار گنے سے بھی زیادہ کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے۔(1) پھر ان دو ماہ میں ایک عجیب بات یہ ہوئی ہے کہ عورتوں کے طبقہ میں حیرت انگیز طور پر تبلیغی رستہ کھلا ہے۔اور ان دو ماہ میں مسلمانوں کے ایک چوٹی کے خاندان کی جسے تمام ہندوستان میں علمی اور تجارتی رُعب حاصل ہے ایک خاتون احمدی ہوئی ہیں۔پھر ایک اور خاتون جو انگریز ہیں اور انگلستان کے ایک ڈیوک (Duke) کی رشتہ دار اور ہندوستان کے ایک بہت بڑے انگریز افسر کی بیوی ہیں مسلمان ہوئی ہیں اور بیعت کی ہے۔جو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔(ہ) انہی دوماہ میں دو نواب خاندانوں کے افراد نے بیعت قبول کی ہے۔(و) ہماری تبلیغ کا رخ زیادہ تر اسلامی ممالک کی طرف ہے۔گو ہم مغربی ممالک میں بھی تبلیغ کرتے ہیں مگر زیادہ خیال ہمیں اسلامی ممالک کا ہی ہے۔کیونکہ ان کا حق ہم پر بہت زیادہ ہے۔