خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 492

خطبات محمود 492 $1945 مختلف ممالک میں تبلیغ کے لئے جانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جو مصائب اور تکالیف کا زمانہ ہے مجھے بہت سی اخبار غیبیہ بتائی ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی برکات کا سلسلہ شاندار طریق پر دنیا میں ظاہر ہونے والا ہے۔اگر ہم اس وقت کام کریں گے تو ویسا ہی ہو گا جیسے کہتے ہیں کہ لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری نصرت کے سامان پید اہو رہے ہیں۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی اشاعت کے غیر معمولی سامان پیدا فرمائے گا۔تین چار دن ہوئے میں نے ایک رؤیاء میں دیکھا کہ میں عربی ہلا د میں ہوں اور ایک موٹر میں سوار ہوں۔ساتھ ہی ایک اور موٹر ہے جو غالباً میاں شریف احمد صاحب کی ہے۔پہاڑی علاقہ ہے اور اُس میں کچھ ٹیلے سے ہیں جیسے پہلگام، کشمیر یا پالم پور میں ہوتے ہیں۔ایک جگہ جاکر دوسری موٹر جو میں سمجھتا ہوں میاں شریف احمد صاحب کی ہے کسی اور طرف چلی گئی ہے اور میری موٹر اور طرف۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری موٹر ڈاک بنگلے کی طرف جارہی ہے۔بنگلہ کے پاس جب میں موٹر سے اترا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے میرے پاس آئے ہیں۔میں اُس وقت اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف جانا چاہتا ہوں لیکن ان عربوں کے آجانے کی وجہ سے ٹھہر گیا ہوں۔انہوں نے آتے ہی کہا۔السّلامُ عَلَيْكُمْ يَا سَیّدِی! میں اُن سے پوچھتا ہوں مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ جِئْنَا مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ وَ ذَهَبْنَا إِلَى قَادِيَانَ وَ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَافَرْتَ فَاتَّبَعْنَاكَ حَتَّى عَلِمْنَا أَنَّكَ جِئْتَ إِلَى هَذَا الْمُقَامِ۔یعنی ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہیں اور ہم آپ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔اس پر میں نے اُن سے پوچھا کہ لاَتِي مَقْصَدِ جِئْتُمْ ؟ کس غرض سے آپ تشریف لائے ہیں؟ تو اُن میں سے لیڈر نے جواب دیا کہ جثنا لِنَسْتَشِيْرَكَ فِي الْأُمُورِ الْاِقْتِصَادِيَّةِ وَالتَّعْلِيمِيَّةِ اور غالبا سیاسی اور ایک اور لفظ بھی کہا۔اِس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور اُن سے کہا کہ اس مکان میں آجائیے وہاں مشورہ کریں گے۔جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چنا ہوا ہے اور گرسیاں لگی ہیں۔