خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 493

$1945 493 خطبات محمود اور میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں اُن کے لئے یہ انتظام ہو۔اور میں آگے دوسرے کمرہ کی طرف بڑھا۔وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور ارد گرد اُسی طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسے کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے۔میں نے اُن کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لئے ہے۔ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اس رؤیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلادِ عرب میں احمدیت کی ترقی کے دروازے کھلنے والے ہیں۔اسی طرح میں نے ایک اور رو یاد یکھا کہ میر قاسم علی صاحب مرحوم آئے ہیں۔انہوں نے گرم کوٹ اور گرم پاجامہ پہنا ہوا ہے اور وہ مضبوط جوان معلوم ہوتے ہیں۔قاسم علی میں بھی عرب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔قاسم کے معنے تقسیم کرنے والے کے ہیں اور علی کے معنی بڑی شان والے کے۔پھر میر قاسم علی صاحب سید بھی تھے۔پس وہ وقت آگیا ہے کہ لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف رجوع کریں گے اور ان کے رجوع کرنے کے سامان خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز زیادہ سے زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کہاں کہاں پہلے احمدیت کے پھیلنے کے رستے کھلیں گے۔ابھی افریقہ سے ایک علاقہ کے مبلغوں کی اطلاع آئی ہے کہ اگر ہمیں بارہ مبلغ مل جائیں تو ہم دس سال کے اندر اندر اس سارے علاقے کو احمدی بنا سکتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی ترقی کے رستے گھل رہے ہیں۔صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے قدم کو تیز تر کر دیں اور ہر قسم کی قربانیوں میں خوشی سے حصہ لیں۔پس میں آج تحریک جدید کے بارھویں سال کا اعلان کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم سے استمداد کرتے اور اُس کے حضور دعا کرتے ہوئے جماعت کے مخلصین سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے بارھویں سال میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدے لکھوائیں اور جنہوں نے پہلے حصہ نہیں لیا وہ دفتر دوم میں حصہ لیں اور اُنیس سال تک اپنی قربانی کو جاری رکھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے دوست صحیح طور پر قربانی کریں تو دفتر دوم میں تین چار لاکھ تک وعدوں کا پہنچ جانا کوئی مشکل امر نہیں۔صرف دوستوں کی توجہ اور ہمت کی ضرورت