خطبات محمود (جلد 26) — Page 39
خطبات محمود 39 $1945 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ ملازمتیں بھی کرتے ہیں، ہماری جماعت کے لوگ تجار تیں بھی کرتے ہیں، ہماری جماعت لوگ صنعت و حرفت بھی کرتے ہیں، ہماری جماعت کے لوگ زمینداریاں بھی کرتے ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ مز دوریاں بھی کرتے ہیں۔سب کچھ کرتے ہیں لیکن دنیا میں اگر ایک کام مجبوری کے طور پر اور گزارے کے لئے کیا جائے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ چونکہ اصل مقصد کے سوا تم اپنے گزارے کے لئے کام کرتے ہو اس لئے کوئی اور کام بھی کرو۔انسان صرف ایک حد تک ہی اپنے اوقات اور اپنی قوتیں خرچ کر سکتا ہے۔ایک شخص اگر اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے گزارہ کے لئے اپنے اوقات کا ایک حصہ دنیا کمانے پر صرف کرتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ دنیا کے اور بھی تمام کام کر سکتا ہے۔یہ بات ہی غلط ہے کہ ہر انسان، ہر ڈاکٹر ، ہر طبیب، ہر صناع، ہر تاجر ، ہر زمیندار اور ہر مزدور اپنے گزارہ کے لئے کام کرنے کے علاوہ دوسرے سارے کام بھی کر سکتا ہے۔پس کسی ایک کام کو معیشت کمانے کے لئے اختیار کرنا اور بات ہے لیکن یہ کہ ہر شخص دنیا کے سارے کاموں میں حصہ لے یہ بالکل اور بات ہے۔پس ہماری جماعت کے سامنے جو مقصد ہے اس کو پورا کرنے کے لئے اسے سیاسیات اور اس قسم کے دوسرے تمام کاموں سے الگ رہنا چاہیے۔جو کام انسان کے اوقات کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اسے اہم کام کے قابل نہیں رہنے دیتے۔سیاسی لوگ سیاسیات میں ہی غصہ لے سکتے ہیں، تعلیم والے تعلیم دینے پر ہی اپنے اوقات صرف کر سکتے ہیں۔اور پیشہ ور اپنے پیشہ میں ہی وقت لگا سکتے ہیں اور کسی دوسرے کام کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو تا۔اگر ممکن ہو سکتا تو ہماری جماعت کو پورے طور پر دین کے کاموں میں لگ جانا چاہیے تھا۔لیکن چونکہ یہ ناممکن ہے اور ہمارے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ ہر انسان کے کھانے پینے اور اس کے گزارہ کا ہم انتظام کر سکیں اور اپنی اس کمزوری کا ہمیں اقرار ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی وہ ایمان پیدا نہیں ہوا کہ ہر شخص کھانے پینے اور اپنی دوسری دنیوی ضروریات سے بے نیاز ہو کر دین کے کاموں میں لگ جائے۔اس لئے مجبور اہماری جماعت کے لوگوں کو کچھ اس کمزوری کی وجہ سے اور کچھ خدائی قانون کے ماتحت اپنے گزارہ کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔