خطبات محمود (جلد 26) — Page 40
$1945 40 خطبات محمود لیکن اگر اس کے علاوہ وہ سارے کے سارے اور کاموں میں بھی لگ جائیں تو اتنی وسیع دنیا میں تبلیغ کا کام کس طرح ہو سکے گا۔اگر ہم ایمان میں پختہ ہیں، اگر ہمارے اند ر یقین اور وثوق ہے، اگر ہم نے دین کا کام کرنا ہے جس کا ہم منہ سے دعویٰ کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ جب تک ہم اپنے اوقات دین کی خدمت کے لئے نہ لگائیں گے اُس وقت تک ہمارے منہ کے کہنے سے کچھ نہیں بن سکتا اور ہم اس کام سے عہدہ بر آنہیں ہو سکتے۔کسی شخص کا ہماری جماعت سے یہ خواہش کرنا کہ ہم سیاسیات میں دخل دیں اور کسی احمدی کا یہ خیال کرنا کہ علاوہ اپنی روزی کمانے کے اور دین کا کام کرنے کے وہ سیاسیات اور دوسرے کاموں کے لئے بھی وقت نکال سکتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔اگر واقع میں ایک احمدی سنجیدگی سے غور کرے تو اس کو اپنے تمام اوقات ضرورت کے مطابق اپنی روزی کمانے کے لئے اور باقی دین کے کاموں کے لئے صرف کرنے چاہئیں۔آج کل تو کام اتنے ہیں کہ انسان اپنے دنیوی کاموں سے ہی فارغ نہیں ہوتا اور اسے اپنے کام میں اتنی محنت کرنی پڑتی ہے کہ اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے۔پہلے زمانہ میں اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔لیکن اس زمانہ میں ہر کام میں مقابلہ ہے۔پہلے زمانہ میں دکاندار دکان پر بیٹھے مکھیاں مارتے تھے لیکن اس زمانہ میں دکاندار کو اتنی محنت سے کام کرنا پڑتا ہے کہ شام کو جب وہ اپنے کام سے واپس آتا ہے تو تھک کر نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے زمانہ میں ملازمین دفتروں میں بیٹھے قلمیں گھڑتے رہتے تھے لیکن اب یہ بات نہیں بلکہ اب ایک ملازم کو مسلسل چھ سات گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے اور جب وہ واپس آتا ہے تو کام کی وجہ سے اتنا چور ہو چکا ہوتا ہے کہ اسے کچھ دیر آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ وقت اسے گھر کے لیے سودا سلف لانے پر بھی صرف کرنا پڑتا ہے۔پھر اگر دین کے لئے کوئی کام کرنے کی بجائے وہ کسی اور کام کے لئے چلا جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا کیوں ہے۔آخر اس نے دین کو کیا فائدہ پہنچایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے۔اگر یہ نوکری کرتا ہے تو اس کی طاقت تو اس کی نوکری نے سلب کر لی، اگر یہ پیشہ ور ہے تو اس کی طاقت تو اس کے پیشہ نے سلب کر لی، اگر یہ مزدور ہے تو اس کی طاقت تو اس کی مزدوری نے سلب کر لی اور اگر یہ زمیندار ہے تو اس کی طاقت تو اس کی زمینداری اور اس کے ہل چلانے نے سلب کر لی۔