خطبات محمود (جلد 26) — Page 414
+1945 414 خطبات محمود کہ تیس در ہم یعنی سات روپے لے کر اپنے استاد کو یہودیوں کے پاس فروخت کر دیا۔مگر جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کے ذریعہ حضرت مسیح ناصری کو دنیا میں غلبہ دینا شروع کیا تو اس غلبہ کی جسمانی علامات کو دیکھ کر کروڑوں کروڑ انسان آپ پر ایمان لے آئے۔چنانچہ اِس وقت حضرت مسیح ناصری کو ماننے والے کروڑوں کروڑ انسان موجود ہیں جنہیں حضرت مسیح ناصری کی روحانی زندگی کا کچھ علم نہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے آیا تھا اگر اُسے ماننے والے اُس کو خدا قرار دیتے ہیں تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ اُس کے مذہب کا کوئی حصہ بھی باقی رہ گیا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ سال مکہ میں رہے۔آپ نے معجزات دکھائے، اپنی صداقت کے دلائل پیش کئے مگر کتنوں نے ان معجزات اور دلائل کو دیکھ کر آپ کو مانا۔بعد میں سات سال تک آپ مدینے میں بھی رہے اور اپنی صداقت کے دلائل پیش کرتے رہے، معجزات بھی دکھلائے اور قرآن شریف کا اکثر حصہ آپ پر یہیں نازل ہوا مگر کتنی روحانی نگاہیں تھیں جنہوں نے آپ کو پہچانا۔مگر مکہ کا فتح ہونا تھا کہ عرب کے لوگوں کی آنکھیں گھل گئیں اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے ہیں۔تو دنیا کے اکثر انسان ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے روحانی نشانوں سے نہیں بلکہ مادی نشانوں سے ہدایت پاتے ہیں۔نشان تو وہ بھی خدائی تھا جس نے حضرت مسیح ناصری کو غلبہ دیا، نشان تو وہ بھی خدائی تھا جس نے حضرت موسیٰ کی قوم کو فتح دی نشان تو وہ بھی خدائی تھا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ دیا۔مگر فرق یہ ہے کہ وہ روحانی نشان تھے اور یہ مادی نشان تھے۔مادی نشان سے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور روحانی نشانات سے کم۔اب تو خیر جاپان مغلوب ہو گیا ہے پہلے زمانہ کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے جو کئی دفعہ میں نے بیان بھی کیا ہے۔ایک جاپانی مصنف نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے ہماری قوم نے جب دیکھا کہ مغربی اقوام ہمارے ملک پر قبضہ کر رہی ہیں اور ہر طرح ہمیں ذلیل اور رسوا کرتی ہیں تو ہم نے سمجھا ہمیں بھی عزت نفس کو قائم کرنا چاہیے۔ہم نے سمجھا یورپین لوگوں میں یہ خوبی ہے کہ ان کے ہاں