خطبات محمود (جلد 26) — Page 415
$1945 415 خطبات محمود مدارس ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔یہ دیکھ کر ہم نے بھی اپنے ملک میں تعلیم جاری کی اور ہم نے سمجھا کہ اِس طرح یہ ہمیں مہذب سمجھنے لگ جائیں گے۔مگر باوجود اس کے کہ ہم نے گاؤں گاؤں میں سکول کھول دیئے اور ہر جگہ تعلیم رائج کر دی یورپین لوگ آتے ، ہماری تعلیم کو دیکھتے مگر سر ہلاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے گزر جاتے کہ یہ غیر مہذب قوم ہے۔اس پر ہم نے خیال کیا تعلیم نہیں کوئی اور چیز ہے جس سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔پھر ہم نے سمجھا تجارت اس قوم میں بڑی ہے ہم بھی اپنی قوم میں تجارت رائج کرتے ہیں۔پھر ہم نے لوگوں کی توجہ تجارت کی طرف مبذول کی اور اتنی تجارت کی کہ ہمارا ملک کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔لیکن یورپین آتے اور سر ہلا کر کہتے یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے خیال کیا تجارت نہیں کوئی اور چیز ہے جس سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔پھر ہم نے سمجھا شاید صنعت و حرفت سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔ہم نے بڑے بڑے کارخانے جاری کئے اور باہر سے کسی قسم کا مال منگوانا بند کر دیا۔لیکن پھر بھی یورپین آتے اور سر ہلا کر کہتے یہ غیر مہذب قوم ہے۔جب ہم نے دیکھا کہ اس پر بھی ہم غیر مہذب ہی کہلاتے ہیں تو ہم نے خیال کیا یہ لوگ غیر ملکوں میں مال بھیجتے ہیں شاید اس لئے مہذب ہیں۔اس پر ہم نے بھی اپنا مال غیر ملکوں میں بھیجنا شروع کر دیا اور خیال کیا کہ اس طرح غیر ملکوں میں مال بھیجنے سے ہم مہذب کہلا سکیں گے۔مگر پھر بھی انہوں نے سر ہلا کر کہا یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے سمجھا شاید اس وجہ سے یہ ہمیں غیر مہذب کہتے ہیں کہ یہ اپنے جہازوں میں اپنی تجارت کا سامان لادتے اور دوسرے ملکوں میں لے جاتے ہیں۔لیکن ہم ان کے جہازوں میں لے جاتے ہیں۔اس خیال کے آنے پر ہم نے بھی اپنے جہاز بنائے اور ان کے ذریعہ اپنا مال دوسرے ملکوں میں بھیجنا شروع کیا۔مگر پھر بھی انہوں نے کہا یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے سمجھا شاید فوج کا پاس ہونا تہذیب کی علامت ہوتی ہے۔ہم نے بھی فوج بنائی اور جہاز وغیرہ تیار کئے۔مگر پھر بھی یورپین ہمیں غیر مہذب کہتے رہے۔جب ہم نے ساری باتیں کر لیں اور اپنا نام نہ بدلو ا سکے تو ہم نے سمجھا یہ چیز میں ہمارے لئے بیکار ہیں۔ہم نے منچوریا (Manchuria) کے میدان میں سفید چمڑی والے تین لاکھ آدمی چند دنوں میں قتل کر دیئے ان کا قتل ہونا تھا کہ ساری دنیا میں تاریں