خطبات محمود (جلد 26) — Page 398
$1945 398 خطبات محمود لئے یہ سزا تجویز فرمائی کہ آئندہ اس سے زکوۃ نہ لی جائے۔بعد میں اُس کو نیکی کا خیال آیا مگر اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے تھے۔وہ حضرت ابو بکڑ کے پاس آیا اور کہا مجھ سے زکوۃ لے لیں۔حضرت ابو بکر نے کہا جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ نہیں لی اُس سے زکوۃ میں نہیں لے سکتا۔حالانکہ زکوۃ خدا تعالیٰ کا حکم ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ دیتا تھا آپ نہیں لیتے تھے۔تاریخ میں آتا ہے کہ وہ ہر سال زکوۃ میں ایک بہت بڑا گلہ لاتا تھا اور کہتا تھا مجھ سے زکوۃ لے لیں۔مگر حضرت ابو بکر ہر بار یہ کہتے کہ میں تمہاری زکوۃ نہیں لے سکتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہاری زکوۃ نہیں لی۔اور وہ یہ سن کر روتا ہوا چلا جاتا تھا۔1 سو یہ خواہش صحابہ کے دل میں بھی ہوتی تھی۔اور ہر ایک کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔جب کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں دین کی فلاں تحریک میں حصہ لوں اور دین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے روپیہ دوں اور اُس کے پاس روپیہ نہیں ہو تا تو اُس کے دل میں اُبال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ کاش! میرے پاس روپیہ ہو تا تا میں بھی خرچ کرتا۔میں نے کئی دفعہ یہ مثال سنائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب تشریف لائے اور کہلا بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں باہر گیا تو انہوں نے مجھے پانچ یا دس پاؤنڈ صحیح تعداد میں کسی اور وقت بتا چکا ہوں اس وقت یاد نہیں مجھے دیئے اور کچھ کہنا چاہا۔مگر کہنے سے پہلے چیچنیں مار کر رو پڑے۔اتنار ونا شروع کیا کہ ہچکی بند نہ ہوتی تھی۔میں پریشان کھڑا تھا کہ کیوں رو رہے ہیں۔اگر پتہ ہو تو انسان خود ان جذبات میں شامل ہو جاتا ہے مگر مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کیوں رو ر ہے ہیں۔پانچ دس پاؤنڈ میرے ہاتھ میں رکھ کر رونے لگ پڑے۔کچھ دیر بعد میں یہ سمجھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی وجہ سے رور ہے ہیں کہنا شروع کیا منشی صاحب ! صبر کریں، اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی۔میرے منع کرنے پر بجائے ہچکی بند ہونے کے وہ زیادہ زور سے رونے اور چیخنے لگے اور روتے چلے گئے، کچھ دیر بعد آخر چپ ہو گئے اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریکات کے مواقع پر دل میں خیال ہو تا تھا کہ میں کافی مقدار میں سونا لے کر حضور کی خدم مت