خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 394

1945 394 خطبات محمود 66 اس خواب کی اشاعت واقعہ سے پہلے نہیں ہوئی اس لئے جنہوں نے اس کو سنا تھا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کو اس کا ثبوت کس طرح دیں گے کیونکہ یہ خواب قبل از وقت اخبارات میں نہیں چھپی۔اس کے مقابلہ میں مسٹر ماریسن کے متعلق جو پیشگوئی ہوئی باوجودیکہ وہ اہمیت کے لحاظ سے اس پہلی خواب کا سینکڑواں حصہ بھی نہیں لیکن اس کا اثر بے انداز ہوا ہے۔جماعت کے دوست بھی اس کا خوب پروپیگنڈا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خبر قبل از وقت اخبار میں چھپی ہے۔اب دشمنوں پر اس کا اثر ہو گا اور غیر بھی اس کا اثر قبول کر رہے ہیں۔چنانچہ آج ہی اس بارے میں شمس صاحب کی تار آئی ہے جو ترجمہ کر کے اخبار میں شائع کر دی جائے گی جس سے پیغامیوں کے جھوٹے پروپیگینڈا کا بھی رد ہو جائے گا۔اس تار میں لکھا ہے کہ دو اخباروں نے مسٹر ماریسن کی پیشگوئی کے متعلق مضمون شائع کئے ہیں۔جن میں سے ایک اخبار ”ڈیلی میل (Daily Mail) ہے جو تیس چالیس لاکھ تک روزانہ شائع ہوتا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اخبار سمجھا جاتا ہے) اس میں پارلیمنٹ کے ایک ممبر نے لکھا ہے کہ مسٹر ماریسن آج لیبر پارٹی کا سب سے زیادہ طاقتور انسان ہے اور اس کا مستقبل اور بھی یقینی ہے۔کیونکہ ہندوستان کے ایک شخص نے خواب کے ذریعہ پہلے سے بتادیا ہے کہ انگلستان میں چالیس سال تک ایسا آدمی پیدا نہیں ہو گا۔اور پھر آگے چل کر کہتا ہے کہ ہمیں خوشی ہے کیونکہ اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان پر جو آئندہ مصیبتیں آنے والی ہیں انگلستان ان سے پیشگوئی کے ماتحت فاتح کی حیثیت سے عہدہ بر آہو گا۔اور پھر اس کے آگے لکھا ہے کہ مسٹر مارلین انگلستان کا سٹالن ہے۔اسی طرح گزٹ اینڈ برونیوز“ نے اس خواب کا ذکر کیا ہے۔اور وہ اس علاقہ کا اخبار ہے جس میں ہماری مسجد ہے۔اس نے چھ سطری موٹے ہیڈنگز کے ساتھ جو ایک غیر معمولی بات ہے شائع کیا ہے کہ ہندوستان کا پیشگوئی کرنے والا ملہم ایک خواب کی بناء پر یہ کہتا ہے کہ مسٹر مارلین برطانیہ کا بہت بڑا آدمی ثابت ہو گا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب اور ایڈیٹر پیغام صلح کہتے ہیں کہ یہ تو ہر ایک کو معلوم تھا۔جس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے پردہ پر کسی کو معلوم نہ تھا لیکن اہل حدیث کے دفتر اور مولوی محمد علی صاحب کے گھر میں سب کو معلوم تھا کہ یہ کتنا ظلم ہے کہ باوجود انہیں اس امر