خطبات محمود (جلد 26) — Page 395
$1945 395 خطبات محمود کے معلوم ہونے کے کہ جو خواب میں نے بتائی ہے اُس کا مضمون سب کو معلوم ہے اُس وقت یہ لوگ خاموش رہے اور اس کی تردید نہ کی۔چاہیے تھا کہ اُس وقت کہتے کہ یہ لغو بات ہے یہ تو ہو کر ہی رہے گی کیونکہ اس کا علم پہلے سے ہر اک کو ہے۔لیکن اس وقت تو خاموش رہے اب بعد میں کہہ رہے ہیں سب کو معلوم تھا۔تو بعض دفعہ ایک خبر شائع ہو کر چاہے چھوٹی ہو بھاری ہو جاتی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ میری بات کی قدر کرتے اور کھدر پہننا شروع کر دیتے اور یہ نہ سمجھتے کہ یہ دنیوی بات ہے کیا ہوا اگر دو روپے کی بجائے تین روپے کا لٹھالے لیا۔اس میں دین کا کیا نقصان ہے، ہم نے اپنی ذات پر ہی روپیہ خرچ کرنا ہے دو روپے کی بجائے تین روپے کپڑے پر خرچ کر لئے اور ایک روپیہ جو خوراک پر خرچ کرنا تھا خوراک پر خرچ نہ کیا کپڑے پر کر لیا تو کیا ہوا۔اگر وہ ایسانہ کرتے اور ہزارہا آدمی کھدر پہنے پھرتے تو آج دنیا پر اس کا اتنا اثر ہو تا کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔تو بعض اوقات لوگ دنیوی بات سمجھ کر اسے رد کر دیتے ہیں اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔اسی قسم کی وہ بات بھی ہے جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں۔اگر مجھے اس کے متعلق بولنے کی توفیق ملی کیونکہ اتنا بولنے کے ساتھ ہی میرے دانت میں درد شروع ہو گئی ہے۔جماعتی ترقیاں جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ سچائی اس قوم میں موجود ہو جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ دلائل اُس قوم میں موجود ہوں، جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ تبلیغ اس قوم میں موجود ہو اور جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ عمل اُس قوم میں موجود ہو وہاں دنیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتی ہے۔صرف یہی کافی نہیں ہوتا کہ سچائی ہو۔ضروری نہیں کہ سچائی دنیا میں ہمیشہ جیت جائے۔ہزارہا دفعہ سچائی مٹ جاتی ہے۔قرآن کریم سچا تھا جھوٹا نہیں تھا مگر کس طرح گزشتہ دو صدیوں میں عیسائیت کے مقابلہ میں ہر میدان میں اسے شکست ہوئی اور عیسائیت غالب ہو گئی۔اس لئے کہ قرآن مجید میں سچائی تو موجود تھی لیکن اسے سمجھ کر اس سے دلائل نکالنے کا کام مسلمانوں نے چھوڑ دیا تھا۔اور جو تھوڑے بہت دلائل تھے چونکہ وہ موجودہ زمانے کے اعتراضات کے رڈ کے لئے کافی نہ تھے