خطبات محمود (جلد 26) — Page 385
$1945 385 خطبات محمود عطا نہیں کیا تھا کہ وہ اتفاقی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دامادی کے مقام پر پہنچ گئے تھے۔یا طلحہ اور زبیر کو محض اس لئے کہ وہ آپ کے خاندان یا آپ کی قوم میں سے تھے اور آپ کے زمانہ میں پیدا ہو گئے تھے عزتیں اور رتبے عطا نہیں کئے۔بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی قربانیوں کو ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا تھا کہ جس سے زیادہ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتا۔بھلا ان باتوں کا خیال بھی تو کرو اور اندازہ لگاؤ ان قربانیوں کا جو ان لوگوں نے کیں ہمارے ہاں اگر کسی کو پانچ بجنے کے بعد کسی دن دفتر میں ایک آدھ گھنٹہ کام کرنا پڑے تو گھبر اجاتا ہے۔رات کو اگر پہرے پر مقرر کر دیا جائے تو یہ بات اُس کے لئے وبالِ جان بن جاتی ہے۔ایک کلرک کو دفتر سے ڈیوٹی پر ڈلہوزی بھیجا گیا تو وہاں سے بھاگ آیا۔حالانکہ گورنمنٹ کے دفاتر کے سینکڑوں کلرک ڈلہوزی آتے ہیں۔جن کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا، جن کا اسلام کی خدمت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ اتنی ہی تنخواہیں لیتے ہوئے جاتے اور رہتے ہیں۔پھر ان کے لئے رہائش کا انتظام بھی نہیں ہوتا۔اِدھر اُدھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔مگر ہماری اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے والی جماعت کے اسلامی خدمت کرنے والے محکمہ کے ایک اسلام کے لئے جان قربان کرنے کا دعویٰ کرنے والے فرد کا یہ طور و طریق ہے کہ وہ وہاں سے اِس لئے بھاگ آیا ہے کہ پہاڑ کا موسم اُس سے برداشت نہیں ہو سکتا۔مگر ذرا ان لوگوں کی حالت تو دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی حضرت طلحہ جس وقت ایک باہمی اختلاف کے موقع پر حضرت علی کے مقابل پر کھڑے ہوئے اور پھر جب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس میں میری غلطی تھی تو وہ میدانِ جنگ سے چلے گئے۔آپ واپس گھر جارہے تھے تو کسی وحشی انسان نے جو حضرت علی کی فوج میں سے کہلا تا تھا راستے میں جاتے ہوئے ان کو قتل کر دیا اور پھر حضرت علیؓ کے پاس انعام کی خواہش میں آکر کہا میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ آپ کا دشمن طلحہ ”میرے ہاتھوں مارا گیا۔حضرت علی نے کہا میں تم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ طلحہ کو ایک جہنمی قتل کرے گا۔1 حضرت طلحہ کا ایک ہاتھ مارا ہو ا تھا اور جس کا ہاتھ مارا ہوا ہو ہمارے ملک میں