خطبات محمود (جلد 26) — Page 370
+1945 370 خطبات حمود دیکھئے ہمارے امام کا رویا پورا ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس خواب کو مزید پختہ کرنے کے لئے سرکلو کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔انہوں نے تار دیکھتے ہوئے بجائے اٹھائیس سو پڑھنے کے پچیس سو پڑھا تھا۔چودھری صاحب کے فون کے جواب میں انہوں نے کہا بات تو ٹھیک ہے کہ امریکن گورنمنٹ نے برطانیہ کو کچھ ہوائی جہاز دیئے ہیں مگر آپ کے امام کی بتائی ہوئی تعداد غلط نکلی۔آپ نے مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے خواب میں اٹھائیس سو ہوائی جہاز دیکھا تھا اور امریکہ نے پچیس سو ہوائی جہاز دیئے ہیں۔چودھری صاحب نے کہا کہ آپ اُس تار کو اٹھا کر ذرا غور سے پڑھیں۔جب انہوں نے دوبارہ پڑھا تو انہیں اپنی غلطی معلوم ہو گئی۔اور بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ اوہو! یہاں تو واقع میں اٹھائیس سو ہوائی جہاز کی ڈلیوری (Delivery) کا۔ذکر ہے۔اِس رؤیا کو سن کر اس سکھ نوجوان نے تسلیم کیا کہ اگر دو ہزار یا اڑھائی ہزار یا تین ہزار تعداد ہوتی تو کہہ سکتے تھے کہ اندازہ کیا گیا لیکن اٹھائیس سو ہوائی جہازوں کی تعداد بیان کرنا اور پھر دو مہینے کے بعد اس کا پورا ہو جانا بتاتا ہے کہ یہ غیر معمولی بات ہے۔اور میں اس پر د غور کروں گا۔آخر میں میں نے کہا میں وہ باتیں پیش نہیں کرتا جو آئی گئی ہو گئی ہیں اور قصے کہانیاں ہو گئی ہیں۔میں آپ کے سامنے حضرت رام چندر کے معجزات بیان نہیں کرتا، میں آپ کے سامنے حضرت کرشن کے معجزات بیان نہیں کرتا، میں آپ کے سامنے حضرت موسیٰ کے معجزات پیش نہیں کرتا، میں آپ کے سامنے حضرت عیسی کے معجزات پیش نہیں کرتا کیونکہ وہ تمام معجزات آپ کے نزدیک قصے کہانیاں بن گئے ہیں۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہماری موجودہ پوزیشن ایسی ہے کہ ہم دنیا کو شکست دے دیں اور سب پر غالب آجائیں ؟ اس نوجوان نے کہا نہیں۔میں نے کہا آپ دیکھ رہے ہیں دنیا پر آج کمیونزم (Communism) کا غلبہ ہے اور اسے بہت بڑی قوت حاصل ہے اور اس کے مقابل میں ہماری کوئی بھی حیثیت نہیں۔اور یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ طاقتور اور کثرت والی قومیں ہمیشہ جیتا کرتی ہیں۔لیکن اگر چالیس یا پچاس سال یا سو سال تک یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ ہی میں ہم دنیا پر غالب آجائیں تو یہ