خطبات محمود (جلد 26) — Page 349
+1945 349 خطبات حمود وجودوں کا پید اہونا کہ دنیا ان کے متعلق یہ کہنے لگ جائے کہ اب ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ دنیا پر غالب آجائیں گے۔یا کم از کم دنیا میں ایک ہیجان پیدا کر دیں گے کوئی معمولی بات نہیں۔میں سمجھتا ہوں اس کے لئے جتنی بھی قربانیاں کی جائیں تھوڑی ہیں۔عام طور پر لوگوں میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ اگر میری کھال کے تسمے بنا کر بھی فلاں کی جوتیوں میں باندھے جائیں تو یہ مجھ پر احسان ہو گا ایسا ہی اگر ہمارے چمڑوں کے تسمے بنائے جائیں اور اسلام کا جو جسم تیار ہو رہا ہے اُس کے جوتوں میں باندھنے کے کام آجائیں تو یہ ایک ایسی عزت ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔پس اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کرو۔جب ریل گاڑی چلنے والی ہوتی ہے تو جو شخص تیزی سے چلتا ہے وہ گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے اور جو ستی سے کام لیتا ہے وہ گاڑی پر سوار ہونے سے رہ جاتا ہے۔جو لوگ تیزی سے چلیں گے وہ وقت پر پہنچ کر گاڑی میں سوار ہو جائیں گے اور عزت حاصل کر لیں گے۔اور جو تکلفات میں رہیں گے وہ گاڑی پر سوار نہیں ہو سکیں گے اور ذلیل ہو جائیں گے۔آخر ہر ایک نے مرنا ہے اور مرتے وقت کوئی آدمی بھی اپنا مال اپنے ساتھ نہیں لے جائے گا۔جن چیزوں کی دنیا میں قدر ہوتی ہے وہ راحت، آرام، اچھا کھانا پینا اور اچھا پہننا ہے۔اور یہ چیزیں ایک عرصہ کے بعد انسان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں۔مگر جو افراد اپنی قوم کی زندگی کے لئے قربانیاں کرتے ہیں اُن کے نام ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتے ہیں۔ہر قوم کی تاریخ میں بڑے بڑے افراد نے جو قربانیاں کی ہیں اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں جو عزتیں ان کو حاصل ہوئی ہیں اگر ان عزتوں کو ان قربانیوں کے مقابلہ میں رکھا جائے تو وہ قربانیاں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔حضرت ابو بکر نے جو قربانیاں کیں یا حضرت عمرؓ نے جو قربانیاں کیں یا حضرت عثمان نے جو قربانیاں کیں یا حضرت علیؓ نے جو قربانیاں کیں وہ بے شک بہت بڑی نظر آتی ہیں لیکن اگر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی دوبارہ زندہ ہو جائیں اور وہ دنیا کے گلی کوچوں میں سے گزرتے ہوئے یہ سنیں کہ حضرت ابو بکر نے یوں فرمایا، حضرت عمرؓ نے یوں فرمایا ہے ، حضرت عثمانؓ نے یوں فرمایا، حضرت علیؓ نے یوں فرمایا اور دوسری طرف وہ یہ