خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 295

$1945 295 خطبات محمود مقابلہ میں دس فیصدی کام بھی نہیں کیا۔گو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انصار کی تنظیم خدام کے کئی سال بعد شروع ہوئی ہے۔میں نے ان کو بھی بار بار توجہ دلائی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی تک اپنے فرائض کو نہیں سمجھا۔میں نے کہا تھا کہ چونکہ بوڑھے آدمی زیادہ کام نہیں کر سکتے اس لئے بڑی عمر والوں کے ساتھ ایسے سیکرٹری مقرر کر دینے چاہئیں جو اکتالیس یا بیالیس سال کے ہوں تاکہ ان کے کام میں بھی تیزی پیدا ہو۔کچھ دن ہوئے میں نے انصار اللہ کے ایک ممبر سے پوچھا کہ میری اس تجویز کے بعد بھی انصار اللہ میں بیداری پیدا نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے بتایا کہ سیکرٹری تو مقرر کر دیئے گئے ہیں مگر ابھی ان کے سپر د کام نہیں کیا گیا۔بہر حال انصار اللہ کا وجود اپنی جگہ نہایت ضروری ہے کیونکہ تجربہ جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔اسی طرح امنگ اور جوش جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔خدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے اور انصار اللہ نما ئندے ہیں تجربہ اور حکمت کے۔اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔پس مجھے تعجب ہے انصار اللہ کے اس جواب پر اور مجھے تعجب ہے خدام الاحمدیہ کی اس کم ہمتی پر۔اور میں حیران ہوں کہ وہ ان کے پاس مانگنے ہی کیوں گئے تھے اور اگر انہوں نے کچھ دینے سے انکار کیا تھا تو کیوں انہوں نے اس انکار کو خوشی سے برداشت نہ کر لیا اور سارے اخراجات کو اپنے اوپر نہ لے لیا۔میں تو سمجھتا ہوں اگر وہ نوجوانوں سے اپنی ضروریات کے لئے ہزار ہاروپیہ بھی جمع کرنا چاہیں تو آسانی سے جمع کر سکتے ہیں۔اس وقت ان کے سارے سال کا خرچ چار پانچ ہزار روپیہ سے زیادہ نہیں ہو گا۔کیا اتنی معمولی رقم بھی وہ جمع نہیں کر سکتے ؟ میں تو سمجھتا ہوں اگر وہ صحیح طور پر کام کریں تو چو بیس پچیس ہزار روپیہ سالانہ بہ سہولت جمع کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ان پر کوئی مشکل آئی بھی تھی تو انہیں ایسے لوگوں کو مخاطب کرنا چاہیے تھا جو بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ کام کرتے۔اور اگر بالفرض روپیہ کی کمی کی وجہ سے ان کے کام بالکل ہی رُک جاتے تب بھی ان کے لئے گلے اور شکوہ کی کوئی بات نہیں تھی۔بچے مصائب اور مشکلات کے وقت ہمیشہ اپنے ماں باپ کے پاس جاتے ہیں۔اگر خدام الاحمدیہ جماعت کی حقیقت کو سمجھتے تو اگر ان کے جسمانی ماں باپ نے یہ کہہ دیا تھا