خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 294

$1945 294 خطبات محمود پس یہ تو نہیں کہ دارالبرکات کے خدام کوہ قاف سے آئے ہوئے ہیں جو دوسروں سے الگ ہیں اور یہ بھی نہیں کہ دارالبرکات کے خدام دارالفضل یا دارالرحمت سے آئے ہوئے ہوں کہ لوگ کہہ سکیں ہمیں ان سے کیا غرض ہے۔پس وہ جنہوں نے کہا کہ ہم انصار کو تم خدام سے کیا غرض ہے انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ خدام الاحمدیہ کوئی الگ چیز نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ ان کے اپنے بیٹوں کا نام ہے۔پس جب انہوں نے کہا کہ ہمیں خدام الاحمدیہ سے کیا غرض ہے تو دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ کہا کہ ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ ہمارے بیٹے جیتے ہیں یا مرتے ہیں۔مگر کیا کوئی بھی معقول انسان ایسی بات کر سکتا ہے؟ خدام الاحمدیہ کی جماعت تو صرف نوجوانوں کی اصلاح کے لئے قائم کی گئی ہے۔ایسی صورت میں وہ کونسے ماں باپ ہیں جو یہ کہہ سکیں کہ ہم اپنے بیٹوں کی اصلاح ضروری نہیں سمجھتے ، ہم نہیں چاہتے کہ ان میں قومی روح پیدا ہو، ہم نہیں چاہتے کہ ان میں کام کرنے کی عادت پید اہو، یا ہم نہیں چاہتے کہ ایک تنظیم میں شامل ہونے کی وجہ سے ان میں اطاعت کا مادہ پید اہو۔میں نے بتایا ہے کہ مجھے انصار اللہ کے جواب پر ایک کشمیری کی مثال یاد آگئی۔کہتے ہیں ایک کشمیری پنجاب میں آیا، گرمی کا موسم تھا جیٹھ ہاڑ کے دن تھے کہ ایک دن وہ چلچلاتی دھوپ میں بیٹھ گیا۔کوئی مسافر پاس سے گزرا تو اس نے یہ دیکھ کر کہ ایسی سخت گرمی میں یہ دھوپ میں بیٹھا ہے حالانکہ پاس ہی ایک دیوار کا سایہ موجود ہے کشمیری سے کہا کہ میاں کشمیری ! تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ تمہارے پاس ہی فلاں جگہ سایہ ہے اس کے نیچے بیٹھ جاؤ۔کشمیری صاحب نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور کہا کہ اگر میں وہاں جا بیٹھوں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہی دار البرکات کے انصار کا حال ہے۔ان سے کہا گیا کہ آؤ ہم تمہارے بیٹوں کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔انہوں نے جواب میں کہا تم ہمیں دیتے کیا ہو کہ ہم تمہیں چندہ دیں۔یہ کہنا کہ خدام الاحمدیہ کیا کام کرتے ہیں ؟ میرے نزدیک درست نہیں کیونکہ جہاں تک میرا تجربہ ہے اِس وقت تک انصار نے بہت کم کام کیا لیکن خدام نے ان سے زیادہ کیا ہے۔گو وہ اپنے کام کے لحاظ سے اس حد تک نہیں پہنچے جس حد تک میں انہیں پہنچانا چاہتا ہوں۔مگر بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انصار نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور ان کے کام کے