خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 291

$1945 291 خطبات محمود ہیں سال کی عمر تک وہ کسی نہ کسی کام پر لگ جاتے ہیں۔اور 25 سال تک وہ اس جماعت میں شامل رہتے ہیں۔ان میں سے پانچواں حصہ ایسے خدام کا لیا جا سکتا ہے جو بر سر کار نہیں۔لیکن باقی 4/5 یعنی اسی فیصدی حصہ ایسے نوجوانوں کا بھی ہے جو کام پر لگے ہوئے ہیں۔اگر تو خدام الاحمدیہ کی جماعت پندرہ سولہ یا سترہ اٹھارہ سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہوتی تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو کماتے نہیں ہم اپنے لئے روپیہ کہاں سے لائیں۔ہم نے تو بہر حال بڑوں سے مانگتا ہے۔مگر جبکہ خدام الاحمدیہ کے ممبر وہ تمام نوجوان ہیں جو پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کے ہیں اور ان میں سے اسی فیصدی نوجوان ایسے ہیں جو ملازمتیں رکھتے ہیں یا تجارتی کاروبار میں مصروف ہیں تو انہیں اپنے کاموں کے لئے دوسروں سے مانگنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔اگر مرکزی دفاتر کے کارکنوں اور قادیان کے دکانداروں کو ہی دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں ان میں سینکڑوں کی تعداد ایسے لوگوں کی نکلے گی جو اپنی عمر کے لحاظ سے خدام الاحمدیہ میں شامل ہیں۔اور جب اس کثرت کے ساتھ بر سر کار افراد خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں شامل ہیں تو میرے نزدیک نوجوانوں کو اپنا بوجھ خود اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔آخر کیا وجہ ہے کہ وہ انصار کے پاس جائیں اور اُن سے اپنے لئے چندہ مانگیں۔ہر شخص کے اندر غیرت ہوئی چاہیے اور ہر جماعت کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات اپنے افراد کے ذریعہ پوری کرے۔سوائے اس کے کہ کوئی ایسا کام پیش آجائے جس کا بوجھ وہ خود نہ اٹھا سکتی ہو اور جس کے لئے دوسروں کی امداد کے بغیر گزارہ نہ ہو ورنہ عام دفتری ضرورتوں کے لئے جو چندے کرنے پڑتے ہیں وہ بہر حال جماعت کی طاقت کے اندر ہوتے ہیں اور ان کو پورا کرنا ہر جماعت کا اپنا فرض ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ قادیان میں سے پندرہ سو بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ رنگروٹ (Recruit) باہر جا چکا ہے۔اگر اب بھی گنا جائے تو قادیان میں نوجوانوں کی تعداد بہت کافی نکل آئے گی۔اگر وہ معمولی رقوم بھی چندہ میں ادا نہ کر سکیں تو یہ ان کا اپنے منہ سے اپنی شکست کا اقرار کرنا ہو گا۔پس میرے نزدیک اول تو ان کو انصار اللہ کے پاس جانا ہی نہیں چاہیے۔اور اگر گئے تھے تو ان کے انکار پر برا نہیں منانا چاہیے تھا۔جو شخص اپنی حد سے آگے نکل جائے اسے لازماً اس قسم کا تلخ جواب سننا پڑتا ہے۔اگر کوئی شخص