خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 292

$1945 292 خطبات حمود دوسرے کے پاس جائے اور اُسے کہے کہ اپنا مکان میرے لئے خالی کر دو اور وہ آگے سے انکار کر دے تو بجائے اس کے کہ کوئی مکان والے کو ملامت کرے ہر شخص اسی قسم کا مطالبہ کرنے والے سے کہے گا کہ تم گئے ہی کیوں تھے ؟ اور کیوں تم نے اس سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنا مکان خالی کر دو؟ اور اگر اُس نے انکار کر دیا ہے تو بہر حال بر امنانے کی کوئی وجہ نہیں۔اس کا حق تھا کہ وہ تمہیں کہے کہ تم اپنے گھر بیٹھو میں تمہاری اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔پس میرے نزدیک انصار اللہ سے چندہ مانگ کر خدام الاحمدیہ نے غلطی کی۔خدام الاحمدیہ کی جو عمر میں نے مقرر کی تھی وہ ایسی نہیں کہ ان کے پاس بر سر کار نوجوانوں کی کمی ہو اور اس بات پر مجبور ہوں کہ چالیس سال سے بڑی عمر والوں سے بھی اپنی ضروریات کے لئے چندہ کا مطالبہ کریں۔چالیس سال ایسی عمر ہے کہ جس میں ایک ملازم شخص اپنی ملازمت کی اکثر عمر گزار چکا ہوتا ہے۔بیس سال کی عمر میں عموماً ملازمت اختیار کی جاتی ہے اور پچپن سال کی عمر میں پنشن ہو جاتی ہے۔گو یا ملازمت والی عمر میں سے بیس سال میں نے خدام الاحمدیہ کو دیئے ہیں اور پندرہ سال انصار کو دیئے ہیں۔لوگوں کی بیس سالہ ملازمت سے خدام فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور لوگوں کی پندرہ سالہ ملازمت سے انصار فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جبکہ چالیس سال تک کی عمر کے تمام نوجوان خدام الاحمدیہ میں شامل ہیں اور جبکہ نوجوانوں کی ہیں سالہ ملازمت سے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے مقابل میں انصار کو عمر کا صرف وہ حصہ دیا گیا ہے جس میں وہ پندرہ سال تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اپنے اخراجات کے لئے انصار اللہ کے پاس جاتے اور اُن سے چندے کا مطالبہ کرتے۔لیکن اگر وہ گئے ہی تھے تو انصار کا جواب بھی مجھے اس کشمیری کا واقعہ یاد دلاتا ہے جو ہمارے ملک میں ایک مشہور مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔خدام الاحمدیہ کوہ قاف سے آنے والی پریوں کا نام نہیں۔بلکہ خدام الاحمدیہ نام ہے ہمارے اپنے بچوں کا۔اور خدام الاحمدیہ کے سپر د یہ کام ہے کہ وہ بچوں کو محنت کی عادت ڈالیں اور ان میں قومی روح پیدا کریں، ان کے سپرد یہ کام نہیں گو اخلاقاً یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ بحیثیت خدام کے بھی لوکل انجمن کے ساتھ مل کر کام کریں کیونکہ خدام الاحمدیہ کا ہر ممبر مقامی انجمن کا بھی ممبر ہوتا ہے۔یہ تو نہیں ہوتا کہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی وجہ سے